Brailvi Books

آئینہ قیامت
77 - 100
رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکی صغیر سن صاحبزادیاں،دنیا میں جن کی ناز برداری کا آخری فیصلہ ان کی شہادت کے ساتھ ہونے والا ہے ،بے چین ہوہو کر رورہی ہیں ۔۔۔۔۔۔بے کس سیدانیاں، یہاں جن کے عیش،جن کے آرام کا خاتمہ ان کی رخصت کے ساتھ خیربادکہنے والا ہے ،سخت بے چینی کے ساتھ اشکبارہیں۔ اوربعض وہ مقدس صورتیں جن کو بے کسی کی بولتی ہوئی تصویر کہنا ہر طریقے سے درست ہوسکتاہے ۔۔۔۔۔۔جن کا سہاگ خاک میں ملنے والا اور جن کا ہر آسراان کے مقدس دم کے ساتھ ٹوٹنے والا ہے۔۔۔۔۔۔روتے روتے بے حال ہو گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔ان کے اُڑے ہوئے رنگ والے چہرے پر سکوت اور خاموشی کے ساتھ مسلسل اورلگاتار آنسوؤں کی روانی صورتِ حال دکھا دکھا کر عرض کر رہی ہے:
مے روی وگریہ مے آید مرا 

ساعتے بنشیں کہ باراں بگزرد
  (یعنی تیرے رخصت ہونے پر مجھے رونا آتا ہے تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاؤ تاکہ مجھے قرار آجائے اور میرے آنسو تھم جائیں ۔)

    اس وقت حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل سے کوئی پوچھے کہ حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ناتواں دل نے آج کیسے کیسے صدمے اٹھائے اوراب کیسی مصیبت جھیلنے کے سامان ہو رہے ہیں۔ بیماری،پردیس ،بچپن کے ساتھیوں کی جدائی، ساتھ کھیلے ہوؤں کا فراق،پیارے بھائیوں کے داغ نے دل کاکیا حال کر رکھا ہے ؟اب ضدیں پوری کرنے والے اور ناز اٹھانے والے مہربان باپ کاسایہ بھی سرِمبارک سے اٹھنے والا ہے اس پرطرّہ یہ کہ ان مصیبتوں ،ان ناقابلِ برداشت
Flag Counter