پوچھنا؟ سراپردۂ جمال ترسی ہوئی آنکھوں کے سامنے سے اٹھا دیا جاتا اور مدت کے بے قرار دل کوراحت وآرام کا پتلا بنا دیا جاتا ہے ۔اسی بنیاد پرتومیدانِ کربلا میں امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وطن سے چھڑا کر پردیسی بنا کر لائے ہیں اورآج صبح سے ہمراہیوں اوررفیقوں بلکہ گود کے پالوں کو ایک ایک کر کے جدا کر لیا گیا ہے۔کلیجے کے ٹکڑے خون میں نہائے آنکھوں کے سامنے پڑے ہیں ،ہری بھری پھلواڑی کے سہانے اورنازک پھول پتی پتی ہو کر خاک میں ملے ہیں اور کچھ پرواہ نہیں ،پرواہ ہوتی توکیوں ہوتی؟ کہ راہ دوست میں گھر لٹانے والے اسی دن کے لیے مدینہ سے چلے تھے، جب توایک ایک کوبھیج کر قربان کرادیا اورجواپنے پاؤں نہ جاسکتے تھے ،ان کو ہاتھوں پر لے کر نذرکرآئے ۔ کہاں ہیں وہ ملائکہ جو حضرت انسان کی پیدائش پر چون وچرا کرتے تھے، اپنی جانمازوں اور تسبیح وتقدیس کے مصلوں سے اٹھ کر آج کربلا کے میدان کی سیر کریں اور