Brailvi Books

آئینہ قیامت
76 - 100
پوچھنا؟ سراپردۂ جمال ترسی ہوئی آنکھوں کے سامنے سے اٹھا دیا جاتا اور مدت کے بے قرار دل کوراحت وآرام کا پتلا بنا دیا جاتا ہے ۔اسی بنیاد پرتومیدانِ کربلا میں امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وطن سے چھڑا کر پردیسی بنا کر لائے ہیں اورآج صبح سے ہمراہیوں اوررفیقوں بلکہ گود کے پالوں کو ایک ایک کر کے جدا کر لیا گیا ہے۔کلیجے کے ٹکڑے خون میں نہائے آنکھوں کے سامنے پڑے ہیں ،ہری بھری پھلواڑی کے سہانے اورنازک پھول پتی پتی ہو کر خاک میں ملے ہیں اور کچھ پرواہ نہیں ،پرواہ ہوتی توکیوں ہوتی؟ کہ راہ دوست میں گھر لٹانے والے اسی دن کے لیے مدینہ سے چلے تھے، جب توایک ایک کوبھیج کر قربان کرادیا اورجواپنے پاؤں نہ جاسکتے تھے ،ان کو ہاتھوں پر لے کر نذرکرآئے ۔ کہاں ہیں وہ ملائکہ جو حضرت انسان کی پیدائش پر چون وچرا کرتے تھے، اپنی جانمازوں اور تسبیح وتقدیس کے مصلوں سے اٹھ کر آج کربلا کے میدان کی سیر کریں اور
اِنِّیۡۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾
 (پ۱،البقرۃ:۳۰)
کی شاندار تفصیل حیرت کی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں۔

    اس دل دکھانے والے معرکے میں امتحان سبھی کا منظور تھا، مگرحسینِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصلی اوراَوروں کا طفیلی، اگرایسا نہ ہوتا توممکن تھا کہ دشمنوں کے ہاتھ سے جوصرف امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے دشمن امام ہی کے خون کے پیاسے تھے، پہلے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرادیا جاتا۔ اللہ اکبر !اس وقت کس قیامت کا دردناک منظر آنکھوں کے سامنے ہے ۔امام مظلومِ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر والوں سے رخصت ہورہے ہیں۔۔۔۔۔۔بیکسی کی حالت ۔۔۔۔۔۔تنہائی کی کیفیت ۔۔۔۔۔۔تین دن کے پیاسے۔۔۔۔۔۔ مقدس جگر پر سینکڑوں تیر کھائے ۔۔۔۔۔۔ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پرجانے کاسامان فرما
Flag Counter