Brailvi Books

آئینہ قیامت
78 - 100
تکلیفوں میں کوئی بات پوچھنے والابھی نہیں ۔
درد دل اٹھ اٹھ کے کس کا راستہ تکتا ہے تو

پوچھنے والا مریض بے کسی کا کون ہے
    اب امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں کو کليجے سے لگا کر، عورتوں کو صبر کی تلقین فرما کر آخری دیدار دکھا کر تشریف لے چلے ہیں۔
ازپیش من آں رشک چمن میگزرد

چوں روح روانیکہ زتن میگزرد

حال عجبے روزِ وداعش دارم 

من از سرو جاں از من میگزرد
    (یعنی وہ رشک چمن محبوب میری نظروں سے یوں اوجھل ہوتا ہے جیسے روح جسم سے جداہوتی ہے ۔اس کے بچھڑنے پر میرا عجیب حال ہے گویا میں سر سے اور جان مجھ سے جدا ہو رہے ہیں )

    ہائے ! اس وقت کوئی اتنا بھی نہیں کہ رکاب تھام کرسوارکرائے یا میدان تک ساتھ جائے ۔ہاں !کچھ بے کس بچوں کی دردناک آوازیں اور بے بس عورتوں کی مایوسی بھری نگاہیں ہیں ،جو ہر قدم پر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ساتھ ہیں ،امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاجوقدم آگے پڑتا ہے، ''یتیمی ''بچوں اور''بے کسی''عورتوں سے قریب ہوتی جاتی ہے۔ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلقین ، امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہنیں جنہیں ابھی صبر کی تلقین فرمائی گئی تھی ،اپنے زخمی کلیجوں پر صبر کی بھاری سل رکھے ہوئے سکوت کے عالم میں بیٹھی ہیں ،مگر ان کے آنسوؤں کا غیر منقطع سلسلہ، ان کے بے کسی چھائے ہوئے چہروں کا اڑاہوارنگ ،جگرگوشوں کی شہادت ، امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رخصت، اپنی
Flag Counter