| آئینہ قیامت |
دل میں نشتر چبھو کرتوڑدیتے اورکلیجے میں چھریاں مارکرچھوڑدیتے ہیں اورپھر تاکیدہوتی ہے کہ اُف کی توعاشقوں کے دفترسے نام کاٹ دیاجائے گا ۔غرض پہلے ہرطرح اطمینان کر لیتے اورامتحان فرما لیتے ہیں ،جب کہیں چلمن سے ایک جھلک دکھانے کی نوبت آتی ہے ۔
رباعی
خوباں دل وجاں بینوا می خواہند زخمے کہ زنند مرحبا می خواہند ایں قوم ایں قوم چشم بددُورایں قوم خون می ریزند وخوں بہا می خواہند
(یعنی محبوب عشاق سے ایسے دل و جان چاہتے ہیں جو بے نوا ہوں ۔زخم لگا کر انہی سے مرحبا کے طالب ہوتے ہیں۔یہ گروہ چشم بد دور عجیب گروہ ہے خود قتل کرتے ہیں اور پھر خون بہا طلب کرتے ہیں۔)
اوریہ امتحان کچھ حسینانِ زمانہ ہی کادستورنہیں،حسنِ ازل کی دلکش تجلیوں اور دلچسپ جلوؤں کا بھی معمول ہے کہ فرمایا جاتاہے :وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیۡءٍ مِّنَ الْخَوۡفِ وَالْجُوۡعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الۡاَمَوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ
(پ۲،البقرۃ:۱۵۵)
ترجمہ کنزالایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔
جب ان کَڑیوں کو جھیل لیا جاتا اور ان تکلیفوں کو برداشت کر لیا جاتا ہے توپھر کیا