| آئینہ قیامت |
میدان میں لائے، ایک شقی نے تیر مارا کہ گودہی میں ذبح ہوگئے ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا خون زمین پرگرایا اوردعا کی:''الٰہی!عزوجل اگرتونے آسمانی مدد ہم سے روک لی ہے تو انجام بخیر فرما اور ان ظالموں سے بدلہ لے۔''
(المرجع السابق،ص۴۲۹)
پھول کھِل کھِل کربہاریں اپنی سب دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پر ہے جو بے کھلے مرجھا گئے
اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین
امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوتے ہیں
حسن وعشق کے باہمی تعلقات سے جو آگاہ ہیں ،جانتے ہیں کہ وصل ِدوست جسے چاہنے والے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ،بغیر مصیبتیں اٹھائے اور بلائیں جھیلے حاصل نہیں ہوتا ۔
رباعی
اے دل بہوس برسرکارے نرسی تاغم نہ خورے بغم گسارے نرسی تاسودہ نہ گردی چوحنا در تہ سنگ ہرگز بکف پائے نگارے نرسی
(یعنی اے دل ہوس سے تو کامیاب نہ ہوگا جب تک تو غم نہ کھائے گا غم گسار تک تیری رسائی نہ ہوگی،جب تک تو مہندی کی طرح پتھر کے نیچے پس نہ جائے گا محبوب کے تلوے تک تیری رسائی نہ ہو سکے گی۔ )