Brailvi Books

آئینہ قیامت
73 - 100
 پھر عبداللہ بن مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ لڑائی پر گئے اورشہید ہوئے ۔
 (الکامل فی التاریخ،وکان اول من قتل...الخ،ج۳،ص۴۲۸ملخصاً)
    اب اعدا نے چارطرف سے نرغہ کیا ۔اس نرغے میں عون بن عبداللہ بن حضرت جعفر بن طیاراور عبدالرحمن وجعفر ،پسرانِ عقیل نے شہادتیں پائیں ۔ پھر حضرتِ قاسم، حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حملہ آورہوئے اورعمروبن سعد بن نفیل مردودکی تلوارکھاکر زمین پرگرے ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوچچا!کہہ کرآوازدی،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ شیرِغضبناک کی طرح پہنچے، اور عمرومردودپرتلوار چھوڑی ،اس نے روکی ،ہاتھ کہنی سے اڑ گیا ۔وہ چلایا ،کوفے کے سوار اس کی مدد کو دوڑے اور گردوغبارمیں اسی کے ناپاک سینے پر گھوڑوں کی ٹاپیں پڑگئيں۔ 

    جب گردچھٹی تو دیکھا ،امام حضرت قاسم کی لاش پر فرما رہے ہیں:''قاسم! رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیرے قاتل رحمتِ الٰہی عزوجل سے دور ہیں، خداکی قسم! تیرے چچا پرسخت شاق گزراکہ تُو پکارے اور وہ تیری فریاد کو نہ پہنچ سکے ۔'' پھر انہیں بھی اپنے سینے پر اٹھا کر لے گئے اور حضرتِ علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر لٹادیا۔اسی طرح یکے بعد دیگرے حضرت عباس اوران کے تینوں بھائی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوسرے صاحبزادے حضرت ابو بکر اور سب بھائی بھتیجے رضی اللہ تعالیٰ عنہم شہید ہو گئے ۔اللہ عزوجل انہیں اپنی وسیع رحمتوں کے سائے میں جگہ دے اور ہمیں ان کی برکات سے بہرہ مند فرمائے ۔

    اب امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تنہا رہ گئے ،خیمے میں تشریف لا کر اپنے چھوٹے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو(جو عوام میں علی اصغر مشہور ہیں)گودمیں اٹھاکر
Flag Counter