Brailvi Books

آئینہ قیامت
72 - 100
اللہ تعالیٰ عنہم لڑتے لڑتے دشمنوں میں ڈوب گئے ۔اس وقت اشقیا نے سخت حملہ کیا ،حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حملہ فرماکر چھڑا لائے ۔زخموں میں چُور تھے اسی حال میں دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔
چمنِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مہکتے پھولوں کی شہادت کی ابتدا
   اب امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وفادار اور جاں نثار سپاہیوں میں چندرشتہ داروں کے سوا کوئی باقی نہ رہا ،ان حضرات میں سب سے پہلے جودشمنوں کے مقابلہ پرتشریف لائے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت علی اکبر  ۱؎  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔شیروں کے حملے مشہورہیں ،پھریہ شیرتو محمدی کچھارکا شیرہے ۔اسکے جھنجھلائے ہوئے حملہ سے خداعزوجل کی پناہ ،دشمنوں کو قہرِالٰہی عزوجل کانمونہ دکھا دیا ،جس نے سراٹھایانیچا دکھا دیا ۔ 

    صف شکن حملوں سے جدھر بڑھے ،دشمن کائی کی طرح پھٹ گئے ،دیر تک قتال کرتے اور قتل فرماتے رہے ،پیاس اور ترقی پکڑگئی، واپس تشریف لائے اوردم راست فرما کر پھر حملہ آور ہوئے اوردشمنوں کی جان پر وہی قیامت برپا کر دی ۔چند بار ایساہی ہوا،یہاں تک کہ مرہ بن منقذ عبدی شقی کا نیزہ لگا اور بد بختوں نے تلواروں پر رکھ لیا ۔ جنت علیا میں آرام فرمایا۔نوجوان بیٹےرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش پر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''بیٹے! خداعزوجل تیرے شہید کرنے والے کو قتل کرے ،تیرے بعد دنیا پر خاک ہے ،یہ قوم اللہ عزوجل سے کتنی بے باک اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے حرمتی پر کس قدر جری ہے ۔''پھر نعش مبارک اٹھاکر لے گئے اورخیمہ کے پاس رکھ لی
۱؎ : ان کی والدہ ماجدہ حضرت لیلیٰ بنت ابی مرہ ہیں نہ حضرت شہربانو جیسا کی عوام میں مشہور ہے۔۱۲منہ
Flag Counter