ٹھنڈی کرتا ہے۔''عرض کی:'' واللہ! ہم اپنے لئے نہیں روتے بلکہ حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے روتے ہیں کہ اب ہم میں حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محافظت کی طاقت نہ رہی ۔'' فرمایا:'' اللہ عزوجل تمہیں جزائے خیر دے ۔''بالآخریہ دونوں بھی رخصت ہو کر بڑھے اور شہید ہوگئے ۔
حنظلہ بن اسعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے قرآن مجید کی کچھ آیات پڑھیں اور کوفیوں کو عذابِ الہی سے ڈرایا مگروہاں ایسی کون سنتا تھا ،یہ بھی سلام کر کے گئے اور دادِ شجاعت دے کرشہید ہوگئے ۔شوذب بن شاکررضی اللہ تعالیٰ عنہ رخصت پا کر بڑھے اور شہادت پا کر دار السلام پہنچے ۔حضرت عابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجازت لے کرچلے اور مبارِزمانگا ان کی مشہور بہادری کے خوف سے کوئی سامنے نہ آیا۔ ابن سعدنے کہا:''انہیں پتھروں سے مارو ۔''چاروں طرف سے پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی ۔جب انہوں نے ان نامردوں کی یہ حرکت دیکھی، طیش میں بھر کر زرہ اتار، خود پھینک، حملہ آور ہوئے ،دم کے دم میں سب کو بھگادیا۔ دشمن پھر حواس جمع کر کے آئے اور انہیں بھی شہید کیا ۔
یزید بن ابی زیاد کندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کوفے کے لشکر میں تھے اورنارسے نکل کرنورمیں آگئے تھے ،دشمنوں پر تیر مارنے شروع کئے ،ان کے ہرتیر پرامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعافرمائی: ''الٰہی!عزوجل اس کا تیر خطانہ ہو اوراسے جنت عطافرما۔''سوتیر مارے جن میں پانچ بھی خطانہ گئے ،آخر کارشہید ہوئے ۔اس واقعہ میں سب سے پہلے انہوں ہی نے شہادت پائی اورشہیدانِ کربلا کی ترتیب وار فہرست، انہیں کے نام سے شروع ہوئی ہے ،عمرو بن خالد مع سعد مولی وجباربن حارث ومجمع بن عبیداللہ رضی