Brailvi Books

آئینہ قیامت
70 - 100
    غرض حضرت حنفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے یہاں تک تیر کھائے کہ شہید ہو کرگرپڑے،حضرت زہیربن قینرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طوفان بے تمیزی کے روکنے میں جان توڑ کوشش کی اور سخت لڑائی لڑکر شہید ہوگئے ۔حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیروں پر اپنا نام کندہ کراکر زہرمیں بجھایا تھا ۔ان سے بارہ شقی قتل کئے اوربے شمارزخمی کرڈالے ۔دشمن ان پر بھی ہجوم کر آئے،دونوں بازوؤں کے ٹوٹ جانے کے سبب سے مجبورہو کر گرفتارہوگئے ۔شمر خبیث انہیں ابن سعدکے پاس لے گیا۔ ہلال کے چاندکاچہرہ خون سے بھرا تھا اور وہ بپھراہواشیرکہہ رہا تھا :''میں نے تم میں کے۱۲ گرائے اوربے گنتی گھائل کئے ،اگرمیرے ہاتھ نہ ٹوٹتے تو میں گرفتار نہ ہوتا ۔''شمر نے ان کے قتل پر تلوار کھینچی، فرمایا: ''تومسلمان ہوتا ،توخداکی قسم! ہماراخون کرکے خداعزوجل سے ملنا پسندنہ کرتا،اس خدا عزوجل کے لئے تعریف ہے جس نے ہماری موت بدترانِ خلق کے ہاتھ پر رکھی۔''شمر نے شہید کردیا۔پھر باقی مسلمانوں پر حملہ آورہوا امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اب ان میں امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حفاظت کرنے کی طاقت نہ رہی ،شہید ہونے میں جلدی کرنے لگے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ ہمارے جیتے جی امام عرش مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئی صدمہ پہنچے ۔ حضرت عبداللہ وعبد الرحمن پسرانِ عروہ غفاری اجازت لے کر بڑھے اورلڑائی میں مشغول ہو کر شہید ہو گئے ۔

    سیف بن حارث اور مالک بن عبدرضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ دونوں ایک ماں کے بیٹے اورباپ کی طرف سے چچا زاد تھے ،حاضرِ خدمت ہو کر رونے لگے ۔امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''کیوں روتے ہو؟کچھ ہی دیر باقی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھیں