حر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد سخت لڑائی شروع ہوئی۔دشمن کٹتے جاتے اور آگے بڑھتے جاتے ،کثرت کی وجہ سے کچھ خیال نہ لاتے ،یہاں تک کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب پہنچ گئے اور تشنہ کاموں پرتیروں کامینہ برسانا شروع کردیا،یہ حالت دیکھ کر حضرت حنفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہکو اپنی پیٹھ کے پیچھے لے لیا اوراپنے چہرے اور سینے کو امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سپر بنا کر کھڑے ہوگئے۔ دشمن کی طرف سے تیر پرتیر آرہے ہیں اوریہ کامل اطمینان اور پوری خوشی کے ساتھ زخم پرزخم کھارہے ہیں ۔اس وقت اس شرابِ محبت کے متوالے نے اپنے معشوق ،اپنے دلربا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہکو پیٹھ کے پیچھے لے کر جنگِ احد کا سماں یاد دلا یا ہے ،وہاں بھی ایک عاشق جانباز مسلمانوں کی لڑائی بگڑجانے پر سید المحبوبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے دشمنوں کے حملوں کی سپر بن کرآکھڑاہواتھا ،یہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، حضورپُرنورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم انہیں کے پیچھے قیام فرماتھے اوردشمنوں کے دفع کرنے کو ترکش سے تیر عطافرماتے جاتے اور ہرتیر پرارشاد ہوتا ''اِرْمِ سَعَد بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ''تیر ماراے سعد! تجھ پر میرے ماں باپ قربان ۔اللہ عزوجل کی شان،جنگِ احد میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جاں نثاری کی وہ کیفیت کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سپربن گئے اوردشمنوں کوقریب نہ آنے دیا اورواقعہ کربلا میں ابن سعد کی زیاں کاری کی یہ حالت کہ دشمنوں کو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹے کے مقابلہ پر لایا ہے۔ بزرگوارباپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تیر اسلام کے دشمنوں پر چل رہے تھے، ناہنجار بیٹے کے تیر مسلمانوں کے سردار پر چھوٹ رہے ہیں۔