| آئینہ قیامت |
کے ساتھ وہ مردود بھی زمین پر آیا ،اس کے ہمراہی جلدی کرکے اسے اٹھا لے گئے۔ پھر انہوں نے قتال شدید کیا ۔بنی تمیم سے بدیل بن صریم کوقتل فرمایا ،دوسرے تمیمی نے ان کے نیزہ مارا ،اٹھناچاہتے تھے کہ ابن نمیر خبیث نے تلوار چھوڑدی ،شہید ہوگئے ، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، ان کی شہادت کا امام کو سخت صدمہ ہوا۔
اب حضرت حر اور زہیر بن قین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ شروع کیا کہ ایک ان خبیثوں پر حملہ فرماتے، جب وہ اس ہربونگ میں گھر جاتے ،دوسرے لڑبھڑ کر چھٹا لاتے ،جب یہ گھِرکرغائب ہو جاتے ،وہ پہلے حملہ کرتے اور بچالاتے ۔دیر تک یہی حالت رہی پھر پیادوں کا لشکر حضرت حر پرٹوٹ پڑا اورانہیں شہید کیا ۔(الکامل فی التاریخ،المعرکۃ،ج۳،ص۴۲۵ملخصاً)
روضۃ الشہداء میں ہے جب حرزخمی ہو کرگرے امام کوآوازدی ،حضرت بے قرار ہوکرتشریف لے گئے اورسخت جنگ فرما کر اٹھا لائے ،زمین پر لٹا دیا اور ان کاسر اپنے زانوپر رکھ کر پیشانی اور رخساروں کی گرد دامن سے پونچھنے لگے ۔حر نے آنکھ کھول دی اوراپناسر امام کے زانو پرپاکرمسکرائے اور عرض کی: ''حضور!اب تومجھ سے خوش ہوئے؟'' فر مایا'' ہم راضی ہیں ،اللہ بھی تم سے راضی ہو ۔''حر نے یہ مژدہ جاں فزا سن کرامام پرنقدجاں نثارکی اوربہشت بریں کی راہ لی ۔
آرزو یہ ہے کہ نکلے دم تمہارے سامنے تم ہمارے سامنے ہو ہم تمہارے سامنے صلائے قصہ خواں فرقت کی شب سو یہ کہانی ہے تیرے زانو ہی کے تکيے پہ مجھ کو نیند آنی ہے