شمر مردود حملہ کرکے خیمہ اطہرکے قریب پہنچا اور جنت والوں کاخیمہ پھونکنے کو جہنمی نے آگ مانگی ۔اس کے ساتھی حمید بن مسلم نے کہا کہ ''خیمے کو آگ دے کر عورتوں،بچوں کوقتل کرنا ہرگز مناسب نہیں۔''اس دوزخی نے نہ مانا ۔شبث بن ربعی کوفی نے کہ اس ناپاک لشکر کے سرداروں میں تھا،اس ناری کو آ گ لگانے سے باز رکھا۔ اس عرصے میں حضرت زہیربن قین دس صاحبوں کے ساتھ شمر مردودکے لشکر پر ایسی سختی سے حملہ آورہوئے کہ ان بد بختوں کو بھاگتے اور پیٹھ دکھاتے ہی بن پڑی ۔اس حملے میں ابوعزہ مارا گیا ۔دشمنوں نے جمع ہو کر ان گیارہ پرپھر ہجوم کیا ۔ان میں سے جتنے مارے جاتے کثرت کی وجہ سے معلوم بھی نہ ہوتے اور ان میں کاایک بھی شہید ہوتا توسب پر ظاہر ہوجاتا۔اسی عرصہ میں نمازِ ظہرکاوقت آگیا ۔حضرت ابوثمامہ الصائدی نے امام سے عرض کی:''میری جان حضورپرقربان میں دیکھتا ہوں کہ اب دشمن پاس آگئے ، خداکی قسم !جب تک میں اپنی جان حضور پرنثار نہ کرلوں ،حضور شہید نہ ہوں گے، مگر آرزویہ ہے کہ ظہرپڑھ کراللہ تعالیٰ سے ملوں ۔''امام نے فرمایا: ''ہاں ! یہ اول وقت ہے ،ان سے کہو اس قدر مہلت دیں کہ ہم نماز پڑھ لیں ۔''امام کی کرامت کہ یہ بات ان بے دینوں نے قبول کرلی ۔
ابن نمیر مردک نے کہا ''یہ نمازقبول نہ ہوگی ۔''حضرت حبیب بن مطہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''آلِ رسول کی نماز قبول نہ ہو گی اور اے گدھے تیری قبول ہوگی ؟''اس نے ان پر وارکیا ،انہوں نے خالی دے کر تلوارماری ،گھوڑے پرپڑی ،گھوڑا گرااور اس