Brailvi Books

آئینہ قیامت
66 - 100
سے لڑ رہے ہو ؟تمہارے سامنے وہ بہادر ہیں جنہیں مرنے کا شوق ہے ،ایک ایک ان سے میدان نہ کرو ،وہ بہت کم ہیں ،خداکی قسم !تم سب مل کر پتھرماروگے توقتل کرلو گے۔'' 

    ابن سعد نے یہ رائے پسند کرکے لو گوں کوتنہا میدان کرنے سے روک دیا ،پھر عمروبن الحجاج نے فرات کی طرف سے حملہ کیا۔اس حملے میں مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت پائی ۔عمروپلٹ گیا ،ان میں ابھی رمق باقی تھی ،حبیب بن مطہر نے کہا: ''تمہیں جنت کامژدہ ہو،تمہاراگرنامجھ پرشاق ہوا،میں ابھی عنقریب تم سے ملا چاہتاہوں ،مجھے کوئی وصیت کروکہ اس پر عمل کروں۔''مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:''ان پرقربان ہو جانا۔''حبیب نے کہا ایسا ہی ہوگا ۔ پھر خبیث ابن سعد نے پانسو تیر انداز ابن نمیر کے ساتھ جماعتِ امام پربھیجے۔اب تین دن کے پیاسوں پر تیروں کا مینہ برسنا شروع ہو گیا ،امام کے ساتھی گھوڑوں سے اتر کرپیادہ ہو لئے اوریہ پیادہ ہونا اس مصلحت سے تھا کہ اس ناگہانی بلا سے کہ ایک ساتھ پانسو تیر چٹکیوں سے نکل رہا ہے ، گھبرا کرپاؤں نہ اکھڑ جائیں ،مارنا مرنا جوکچھ ہونا ہے یہیں ہو جائے ۔امام کوچھوڑ کر بھاگنے اور پیٹھ دکھانے کی راہ نہ رہے۔ حضرتِ حر سخت لڑائی لڑے ،یہاں تک کہ دوپہر ہو گیا ،ان پانسو نے ان تیس کے ساتھیوں پر کچھ قدرت نہ پائی ۔

    جب شقی ابن سعد نے یہ حال دیکھا کہ سامنے سے جانے کی طاقت نہیں ،اس میدان کے داہنے بائیں کچھ مکان واقع تھے ،ان میں لوگ بھیجے کہ جماعتِ امام پر داہنے بائیں سے بھی حملہ ہو سکے ۔امام مظلوم کے تین چارساتھی پہلے سے بیٹھ رہے، جوکودا، مارلیا ۔ ابن سعد نے جل کر کہا کہ'' مکانات میں آگ لگا دی جائے ۔''امام نے