آیا تھا۔ابن حوزہ کایہ حال دیکھ کرکہنے لگا:خداکی قسم!میں تو اہلِ بیت علیہم الرضوان سے کبھی نہ لڑوں گا،پھریزیدبن معقل،حضرت بریررضی اللہ تعالیٰ عنہسے کہنے لگا: ''خدا عزوجل نے تمہارے ساتھ کیاکیا؟''فرمایا: ''اچھا کیا ۔''کہا:''تم نے جھوٹ کہا اورمیں تم کو آج سے پہلے جھوٹا نہ جانتاتھا،میں گواہی دیتا ہوں کہ تم گمراہ ہو ۔''فرمایا: ''تو آؤ ہم تم مباہلہ کرلیں کہ اللہ عزوجل جھوٹے پر لعنت کرے اورجھوٹا سچے کے ہاتھ سے قتل ہو ۔'' وہ راضی ہو گیا ۔مباہلہ کے بعد ابن معقل نے تلوارچھوڑی ،خالی گئی، حضرت بریررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وارکیا ،خود کاٹتاہوابھیجا چاٹ گیا۔یہ دیکھ کر رضی بن منقذ عبدی دوڑا اور حضرت بریررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لپٹ گیا ،کشتی ہونے لگی ،حضرت بریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دے مارااوراس کے سینے پر چڑھ بیٹھے ،پیچھے سے کعب بن جابرازدی نے نیزہ ماراکہ پشت مبارک میں غائب ہو گیا ،نیزہ کھا کر رضی کے سینے سے اترے اور اس مردک کی ناک دانتوں سے کاٹ لی کعب نے تلوار ماری کہ شہید ہوئے، جب کعب پلٹا،اس کی عورت نے کہا:'' میں تجھ سے کبھی بات نہ کروں گی ،تو نے فاطمہ کے بیٹے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہوتے دشمن کومدددی اورعالموں کے سردار بریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوشہیدکیا ۔''