تھے اورانکی بی بی ام وہب ان کے ساتھ تھیں ۔وہ خیمے کی چوب لے کر جہادکے لئے چلیں اور اپنے شوہر سے کہا: ''میرے ماں باپ تیرے قربان!قتال کر ان ستھرے، پاکیزہ نبی زادوں کے لئے۔'' کہا :''تم عورتوں میں جاؤ۔''نہ مانا اورکہا: ''تمہارے ساتھ مروں گی ۔''آخرحضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آوازدی کہ'' اے بی بی! اللہ عزوجل تجھ پر رحمت کرے ،پلٹ آکہ جہادعورتوں پر فرض نہیں۔'' واپس آئیں ۔پھر ابن سعد کے میمنہ سے عمرو بن الحجاج اپنے سوار لے کر آگے بڑھا ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں نے گھٹنوں کے بل جھک کر نیزے سامنے کئے، گھوڑے نیزوں کی سنانوں پر نہ بڑھ سکے ،پیچھے پلٹے تو ادھر سے تیر چلائے گئے ۔وہ کتنے ہی زخمی ہوئے، کتنے ہی مارے گئے ۔
ایک مردک ابن حوزہ نے پوچھا: ''کیاتم میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہیں ؟''کسی نے جواب نہ دیا، تین بارپوچھا ،لوگوں نے کہا :''تیراکیا کام ہے؟ ''بولا:''اے حسین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہیں آگ کی بشارت ہو ۔ ''فرمایا: ''توجھوٹاہے ،میں اپنے مہربان رب عزوجل کے پاس جاؤں گا۔'' پھراس کا نام پوچھا ۔کہا :ابن حوزہ ۔دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ حزہ اِلَی النَّارِالٰہی!عزوجل اسے آگ کی طرف سمیٹ ۔''یہ سن کروہ مردود غضب ناک ہوا،حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف گھوڑاچمکایا،قدرتِ خداعزوجل کہ گھوڑابھڑکااوریہ پھسلا ،ایک پاؤں رکاب میں الجھ کر رہ گیا ،اب گھوڑااُڑاچلاجاتا ہے یہاں تک کہ اس مردودکی ران اور پنڈلی ٹوٹی،سر پتھروں سے ٹکراٹکراکر پاش پاش ہوگیا، آخر اسی حال میں واصلِ جہنم ہوا۔
مسروق بن وائل حضرمی، امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرِمبارک لینے کی تمنا میں