| آئینہ قیامت |
کے کسی شہر میں چلے جائیں جہاں وہ اوران کے بال بچے امان پائیں ۔۔۔۔۔۔تم نے انہیں قیدی بے دست وپا بنا رکھا ہے ،۔۔۔۔۔۔فرات کا بہتا پانی جسے خداعزوجل کے دشمن پی رہے ہیں اورگاؤں کے کتے سؤرجس میں لوٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بچوں پربند کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔پیاس کی تکلیف نے انہیں زمین سے لگادیاہے ۔۔۔۔۔۔تم نے کیابرامعاملہ کیا ذریتِ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ۔۔۔۔۔۔اگرتم توبہ نہ کرو اور اپنی حرکتوں سے باز نہ آؤ تواللہ عزوجل تمہیں قیامت کے دن پیاسا رکھے ۔''
(المرجع السابق،ص۴۲۱)
مقابلے کا باقاعدہ آغاز
اس کے جواب میں ان خبیثوں نے حضرتِ حررضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پتھر پھینکنے شروع کئے، یہ واپس ہو کر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آگے کھڑے ہوگئے ،لشکر اشقیا سے زیاد کاغلام یساراورابن زیاد کا غلام سالم میدان میں آئے اور اپنے مقابلہ کے لئے مبارز طلب کرنے لگے ۔حضرت عبداللہ ابن عمیر کلبیرضی اللہ تعالیٰ عنہسامنے آئے ،دونوں بولے ہم تمہیں نہیں جانتے ،زہیربن قین رضی اللہ تعالیٰ عنہیا حبیب بن مطہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا بریر بن خضیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کوہمارے مقابلہ کے لئے بھیجو۔حضرتِ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یسارسے فرمایا:'' اوبدکارعورت کے بچے تُومجھ سے نہ لڑے گا ؟تیری لڑائی کے لئے بڑے بڑے چاہیں؟۔'' یہ فرما کر ایک ہاتھ مارا وہ قتل ہوا،سالم نے آپ پروارکیا بائیں ہاتھ سے روکا،انگلیاں اڑ گئیں،داہنے سے وارکیا ،وہ بھی ماراگیا۔
یہ عبداللہرضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفے سے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے