Brailvi Books

آئینہ قیامت
62 - 100
خوش رنگ پھول کھلے ہیں اور ایک جانب جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے بلند ہورہے ہیں اور میں اگر پرزے پرزے کر کے جلا دیا جاؤں توجنت چھوڑنا گوارانہ کروں گا۔'' یہ کہہ کر گھوڑے کو ایڑی دی اورامام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ پھر عرض کی:''اللہ عزوجل مجھے حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہپر قربان کرے ،میں حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہی ساتھی ہوں جس نے حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کوواپس جانے سے روکا، جس نے حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حراست میں لیا،خداکی قسم!مجھے یہ گمان نہ تھا کہ یہ بدبخت لوگ حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا  ارشاد قبول نہ کریں گے اور یہاں تک نوبت پہنچائیں گے ، میں اپنے جی میں کہتاتھا خیر بعض باتیں ان کی کہی کر لوں کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہماری اطاعت سے نکل گیا اور انجام کارتووہ حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشادکچھ نہ کچھ مان ہی لیں گے اورخداکی قسم! مجھے یہ گمان ہو کہ یہ کچھ نہ مانیں گے تو مجھ سے اتنا بھی ہرگزواقع نہ ہو، اب میں تائب ہو کر حاضرآیا ہوں اوراپنی جان حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قربان کرنی چاہتا ہوں ،کیامیری توبہ حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک مقبول ہو جائے گی ؟''فرمایا: ''ہاں!اللہ عزوجل توبہ قبول کرنے والااورگناہ بخش دینے والا ہے ۔''

    حُررضی اللہ تعالیٰ عنہیہ مژدہ سن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے اور فرمانے لگے: ''کیا وہ باتیں جو امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیش کی تھیں منظورنہیں ؟''ابن سعد نے کہا:''ان کا ماننا میری قدرت سے باہر ہے۔''فرمایا:'' اے کوفیو! تمہاری مائیں بے اولادی ہوں ۔۔۔۔۔۔ تمہاری ماؤں کوتمہارا رونانصیب ہو ۔۔۔۔۔۔کیا تم نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دشمنوں کے ہاتھ میں دے دینے کے لئے بلایا تھا؟۔۔۔۔۔۔ کیاتم نے وعدہ نہ کیا تھا کہ اپنی جانیں ان پر نثارکر وگے ؟۔۔۔۔۔۔اوراب تمھیں ان کے قتل پرآمادہ ہو ؟یہ بھی منظورنہیں کہ وہ اللہ عزوجل