| آئینہ قیامت |
شمربولا:'' کوئی گھڑی جاتی کہ تُواورتیراسردارقتل کیا جاتاہے۔''
فرمایا:''کیا مجھے موت سے ڈراتاہے ؟خداکی قسم! ان کے قدموں پرمرناتم لوگوں کے ساتھ ہمیشہ جینے سے پسند ہے ۔''پھربلند آوازسے کہنے لگے:''اے لوگو! یہ بے ادب اجڈفریب دیتااوردین حق سے بے خبرکرناچاہتا ہے ،جولوگ اہلِ بیت علیہم الرضوان یاان کے ساتھیوں کو قتل کریں گے،خداکی قسم!محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت انہیں نہ پہنچے گی۔'' امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واپس بلایا۔(المرجع السابق،ص۴۱۷)
اب شقی ابن سعد نے اپنے ناپاک لشکر کو امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف حرکت دی۔ حرنے کہا: ''تجھے اللہ کی مار، کیا تو ان سے لڑے گا ؟''کہا: ''لڑوں گا اورایسی لڑائی لڑوں گا،جس کا ادنٰی درجہ سروں کا اڑنا اور ہاتھوں کا گرنا ہے ۔''کہا:''وہ تین باتیں جو انہوں نے پیش کی تھیں تجھے منظور نہیں ؟''کہا: ''میرا اختیارہوتاتومان لیتا۔''
(الکامل فی التاریخ،انضمام الحر...الخ،ج۳،ص۴۲۰ملخصاً)
حضرت حررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے معذرت
حر مجبورانہ لشکر کے ساتھ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بڑھے مگریوں کہ بدن کانپ رہا ہے اور پہلو میں دل کے پھڑکنے کی آوازبغل والے سن رہے ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر ان کے ایک ہم قوم نے کہا :''تمہارا یہ کام شبہ میں ڈالتا ہے ،میں نے کسی لڑائی میں تمہاری یہ کیفیت نہ دیکھی، مجھ سے اگر کوئی پوچھتاہے کہ تمام اہلِ کوفہ میں بہادرکون ہے ؟تو میں تمہارا ہی نام لیتاہوں ۔''بولے: ''میں سوچتاہوں کہ ایک طرف جنت کے