فرمایا: ''میں اپنے اور تمہارے رب عزوجل کی پناہ مانگتاہوں اس امرسے کہ مجھے سنگسار کرو اور پناہ مانگتا اس مغرور سے جو قیامت کے دن پرایمان نہ لائے ۔''یہ فرماکر ناقہ شریف سے اترآئے۔
زہیربن قین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہتھیارلگائے گھوڑے پرسوارآگے بڑھے اورکہنے لگے: '' اے اہلِ کوفہ !عذابِ الٰہی عزوجل جلد آتاہے ۔مسلمان کا مسلمان پر حق ہے کہ نصیحت کرے ،ہم تم ابھی دینی بھائی ہیں ،جب تلوار اٹھے گی تم الگ گروہ ہو گے ہم الگ۔ ہمیں تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اولادکے بارے میں آزمایا ہے کہ ہم تم ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔میں تمہیں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدد کے لئے بلاتا اور سرکش ابن سرکش ابن زیاد کی اطاعت سے روکنا چاہتا ہوں، تم اس سے ظلم وستم کے سوا کچھ نہ دیکھو گے ۔''
کوفیوں نے کہا:''جب تک تمہیں اور تمہارے سردار کو قتل نہ کرلیں یا مطیع بنا کر ابن زیادکے پاس نہ بھیج دیں ہم یہاں سے نہ ٹلیں گے ۔''
زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''خداکی قسم !فاطمہ کے بیٹے رضی اللہ تعالیٰ عنہماسمیہ کے بیٹے سے زیادہ مستحقِ محبت ونصرت ہیں ،اگرتم ان کی مدد نہ کروتوان کے قتل کے بھی درپے نہ ہو۔''اس پرشمرمردودنے ایک تیرمارکرکہا:''چپ!بہت دیرتک تونے ہمارا سر کھایا ہے ۔ ' '
زہیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اوایڑیوں پرموتنے والے گنوارکے بچے !میں تجھ سے بات نہیں کرتا،تُونراجانورہے ،میرے خیال میں تجھے قرآن کی دو آیتیں بھی نہیں آتیں ،تجھے قیامت کے دن دردناک عذاب اور رسوائی کا مژدہ ہو۔''