کرواور جو کرنا ہے کرگزرو،میں مہلت نہیں چاہتا ،میرا اللہ جس نے قرآن اتارااور جو نیکوں کو دوست رکھتا ہے' میرا کارسازہے ۔''
امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ آواز ان کی بہنوں کے کان تک پہنچی بے اختیار ہو کر رونے لگیں امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاموش کرنے کے لئے بھیج کر فرمایا:'' خدا کی قسم!انہیں بہت رونا ہے۔'' پھر اشقیاکی طرف متوجہ ہوکرفرمانے لگے: ''ذرا میرانسب توبیان کرواورسوچوتو میں کون ہوں؟۔۔۔۔۔۔اپنے گریبان میں منہ ڈالو ،کیا میرا قتل تمہیں روا ہوسکتاہے ؟۔۔۔۔۔۔ میری بے حرمتی تم کوحلال ہوسکتی ہے؟۔۔۔۔۔۔کیامیں تمہارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کانواسہ نہیں؟۔۔۔۔۔۔کیا تم نے نہ سُناکہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے اور میرے بھائی کوفرمایا: تم دونوں جوانانِ اہل جنت کے سردار ہو؟۔۔۔۔۔۔کیا اتنی بات تمہیں میری خوں ریزی سے روکنے کے لئے کافی نہیں؟۔۔۔۔۔۔''
شمرمردک نے کہا:''ہم نہیں جانتے تم کیا کہہ رہے ہو ۔''حبیب بن مطہر نے فرمایا :''اللہ عزوجل نے تیرے دل پر مہرکردی تُوکچھ نہیں جانتا ۔''پھر امام مظلوم نے فرمایا :''خداکی قسم!میرے سوا روئے زمین پر کسی نبی علیہ السلام کا کوئی نواسہ باقی نہیں۔ بتاؤ تو میں نے تمہاراکوئی آدمی مارا؟۔۔۔۔۔۔یامال لُوٹایاکسی کو زخمی کیا؟۔۔۔۔۔۔آخرمجھ سے کس بات کا بدلہ چاہتے ہو ؟۔۔۔۔۔۔''کوئی جوابدہ نہ ہوا،تونام لے کرفرمایا:'' اے شبث بن ربعی! اے حجاربن ابجر!اے قیس بن اشعث!اے زیدبن حارث!کیا تم نے مجھے خطوط نہ لکھے؟'' وہ خبیث صاف مکر گئے۔ فرمایا:''ضرور لکھے ۔''پھر ارشاد ہوا:''اے لوگو! اگرتم مجھے ناپسند رکھتے ہو توواپس جانے دو۔''اس پر بھی کوئی راضی نہ ہوا۔پھر