روزِعاشورا کی صبح جانگزا آتی اورجمعے کی سحر محشر زامنہ دکھاتی ہے ۔امام عرشمقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ،خیمہ اطہرسے برآمدہوکر اپنے بَہتّرساتھیوں، بتیس سواروں ، چالیس پیادوں کا لشکر ترتیب دے رہے ہیں ۔داہنے بازو پرزہیربن قین ، بائیں پر حبیب بن مطہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرداربنائے گئے اور نشان برداری پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقرر فرمائے گئے ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ خندق کی لکڑیوں میں آگ دے دی جائے کہ دشمن ادھر سے راہ نہ پائیں ۔اس انتظام کے بعد امام جنت مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تہیہ شہادت کے واسطے پاکی لینے تشریف لے گئے ۔عبد الرحمن بن عبد ربہ ،یزید بن حصین ہمدانی رضی اللہ تعالیٰ عنہماخیمے کے دروازے پر منتظرہیں کہ بعد فراغِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بھی یہ سنت ادا کریں۔ ابن حصین نے عبد الرحمن سے کچھ ہنسی کی بات کہی ، وہ بولے: ''یہ ہنسی کا کیا موقع ہے؟'' کہا :''خداگواہ ہے میری قوم بھر کو معلوم ہے کہ جوانی میں بھی کبھی میری ہنسی کی عادت نہ تھی، اس وقت میں اس چیز کے سبب سے خوش ہورہا ہوں جوابھی ملاچاہتی ہے۔تم اس لشکرکودیکھتے ہوجوہمارے مقابلہ کے لئے تلاکھڑا ہے، خدا کی قسم ہم میں اورحوروں کی ملاقات میں اتنی ہی دیر باقی ہے کہ یہ تلواریں لے کر ہم پرجھک پڑیں ۔''
امام جنت مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر تشریف لائے اور ناقہ پر سوارہوکراتمامِ حجت کے لئے اشقیا کی طرف تشریف لے گئے قریب پہنچ کر فرمایا: ''لوگو! میری بات غور سے سنو اورجلدی نہ کرو اگرتم انصاف کروتوسعادت پاؤ ورنہ اپنے ساتھیوں کوجمع