Brailvi Books

آئینہ قیامت
57 - 100
مگرمقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا

کہ خواہش پیاس سے بڑھتی رہے رویت کے شربت کی 

شہیدِ ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر 

جو موجیں باڑھ پر آجاتی ہیں دریائے الفت کی 

یہ وقتِ زخم نکلا خون اچھل کرجسمِ اطہر سے 

کہ روشن ہوگئی مشعل شبستانِ محبت کی 

سرِ بے تن تن ِآسانی کو شہرِ طیبہ میں پہنچا 

تن بے سر کو سرداری ملی ملکِ شہادت کی 

حسنؔ سُنّی ہے پھر افراط وتفریط اس سے کیوں کر ہو 

ادب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سنت کی