| آئینہ قیامت |
مگرمقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا کہ خواہش پیاس سے بڑھتی رہے رویت کے شربت کی شہیدِ ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر جو موجیں باڑھ پر آجاتی ہیں دریائے الفت کی یہ وقتِ زخم نکلا خون اچھل کرجسمِ اطہر سے کہ روشن ہوگئی مشعل شبستانِ محبت کی سرِ بے تن تن ِآسانی کو شہرِ طیبہ میں پہنچا تن بے سر کو سرداری ملی ملکِ شہادت کی حسنؔ سُنّی ہے پھر افراط وتفریط اس سے کیوں کر ہو ادب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سنت کی