دل پرسوز کے سلگے اگر سوز ایسی کثرت سے
کہ پہنچی عرش و طیبہ تک لپٹ سوزِ محبت کی
ادھر چلمن اٹھی حسن ازل کے پاک جلوؤں سے
ادھر چمکی تجلی بدرِ تابانِ رسالت کی
زمینِ کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے
کہ کھنچ کھنچ کر مٹی جاتی ہیں تصویریں قیامت کی
گھٹائیں مصطفی کے چاند پر گھِرگھِرکر آتی ہیں
سیہ کارانِ امت تیرہ بختانِ شقاوت کی
یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اس کے خون کے پیاسے
بجھے گی پیاس جس سے تشنہ کامانِ قیامت کی
اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وارچلتے ہیں
مٹادی دین کے ہمراہ عزت شرم و غیرت کی
مگر شیرِخدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا
پرے ٹوٹے نظر آنے لگی صورت ہزیمت کی
کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوشِ دلیری نے
بہادر آج سے کھائیں گے قسمیں اس شجاعت کی
تصدق ہو گئی جانِ شجاعت سچے تیور کے
فدا شیرانہ حملوں کی ادا پر روح جرأت کی
نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے
نکل آتی زمینِ کربلا سے نہر جنت کی