یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے
یہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی
یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اک گھر منور ہو
یہ وہ شمعیں ہیں جن سے روح ہو کافور ظلمت کی
دلِ حورو ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کر
کہ بزمِ گلرخاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی
جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں
ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی
اسی منظر پہ ہرجانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں
اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی
ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اشکِ یتیماں سے
بجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہلِ بصیرت کی
ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے
سبیلیں رکھی ہیں دیدارنے خود اپنے شربت کی
ادھر افلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے
ادھر ساغر لئے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی
سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے
بہارِ خوشنمائی پر ہے صدقے روح جنت کی
ہوائیں گلشنِ فردوس سے بس بس کر آتی ہیں
نرالے عطر میں ڈوبی ہوئی ہے روح نکہت کی