Brailvi Books

آئینہ قیامت
55 - 100
یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے

یہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی

یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اک گھر منور ہو

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے روح ہو کافور ظلمت کی

دلِ حورو ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کر

کہ بزمِ گلرخاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی

جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں

ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی

اسی منظر پہ ہرجانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں 

اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی

ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اشکِ یتیماں سے 

بجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہلِ بصیرت کی

ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے 

سبیلیں رکھی ہیں دیدارنے خود اپنے شربت کی 

ادھر افلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے

ادھر ساغر لئے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی 

سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے 

بہارِ خوشنمائی پر ہے صدقے روح جنت کی

ہوائیں گلشنِ فردوس سے بس بس کر آتی ہیں 

نرالے عطر میں ڈوبی ہوئی ہے روح نکہت کی