بہاروں پرہیں آج آرایشیں گلزارِ جنت کی
سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی
کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواڑی جراحت کی
فضا ہر زخم کے دامن سے وابستہ ہے جنت کی
گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں امت کی
کوئی تقدیر تو دیکھے اسیرانِ مصیبت کی
شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیوں کر ہو
ہوائیں آتی ہیں ان کھڑکیوں سے باغ ِجنت کی
کرم والوں نے در کھولا تو رحمت کا سماں باندھا
کمر باندھی تو قسمت کھول دی فضل ِشہادت کی
علی کے پیارے خاتون ِقیامت کے جگر پارے
زمیں سے آسماں تک دھوم ہے ان کی سیادت کی
زمینِ کر بلا پر آ ج مجمع ہے حسینوں کا
جمی ہے انجمن روشن ہیں شمعیں نورو طلعت کی
یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونک دیں اپنے فدائی کو
یہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی