Brailvi Books

آئینہ قیامت
53 - 100
سایہ عطافرمائے اوردنیاوآخرت وقبروحشر میں ہمیں ان کے برکات سے بہرہ مندی بخشے ۔ اٰمین اٰمین یا ارحم الراحمین 

    اسی رات میں امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ ایسے شعر پڑھے جن کا مضمون حسرت و بے کسی کی تصویرآنکھوں کے سامنے کھینچ دے ،زمانہ صبح وشام خداعزوجل جانے کتنے دوستوں اور عزیزوں کو قتل کرتاہے اورجسے قتل کرنا چاہتا ہے اس کے بدلے میں دوسرے پر راضی نہیں ہوتا ۔ہونے والے واقعے کی خبر دینے والی دل خراش آواز حضرت زینب رضی اللہ عنہاکے کان میں پہنچی،صبرنہ ہو سکا بے تاب ہو کر چلاتی ہوئی دوڑیں،'' کاش! اس دن سے پہلے مجھے موت آگئی ہوتی ،آج میری ماں فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکاانتقال ہوتا ہے ،آج میرے با پ علی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ دنیا سے گزرتے ہیں ،آج میرے بھائی حسنرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ نکلتا ہے ،اے حسین ! رضی اللہ تعالیٰ عنہاے گزرے ہوؤں کی نشانی اور پسماندوں کی جائے پناہ !''پھر غش کھا کر گر پڑیں ۔

    اللہ اکبر! آج مالک کوثرکے گھر میں اتنا پانی بھی نہیں کہ بے ہوش بہن کے منہ پر چھڑکا جائے ۔جب ہوش آیا توفرمایا: ''اے بہن! رضی اللہ تعالیٰ عنہا اللہ عزوجل سے ڈرو اور صبر کرو ، جان لو سب زمین والوں کو مرنا اور سب آسمان والوں کوگزرنا ہے ،اللہ تعالیٰ کے سوا سب کو فنا ہے ، میرے باپ،میری ماں ،میرے بھائی رضی اللہ تعالیٰ عنہممجھ سے بہترتھے۔ ہرمسلمان کو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی راہ چلنی چاہیئے۔ ''
                         (المرجع السابق،ص۴۱۶،ملخصاً)
Flag Counter