| آئینہ قیامت |
مسلم شہیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائیوں سے فرمایاگیا:''تمہیں مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہہی کا قتل ہوناکافی ہے۔ میں اجازت دیتا ہوں ،تم چلے جاؤ۔ ''عرض کی: اور ہم لوگوں سے جاکرکیا کہیں ؟یہ کہیں کہ'' اپنے سردار،اپنے آقا،اپنے سب سے بہتر بھائی کو دشمنوں کے نرغے میں چھوڑآئے ہیں۔ نہ ان کے ساتھ تیر پھینکا ،نہ نیزہ مارا،نہ تلوارچلائی اور ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے چلے آنے کے بعد ان پرکیا گزری ۔خداکی قسم! ہم ہرگز ایسا نہ کریں گے بلکہ اپنی جانیں ،اپنے بال بچے تمہارے قدموں پر فداکر دیں گے، تم پر قربان ہو کر مر جائیں گے اللہ اس زندگی کا براکرے جو تمہارے بعد ہو ۔ ''
خوشا حالے کہ گردم گردِ کویت رخے بر خوں گریباں پارہ پارہ
(یعنی وہ سماں بہت اچھا ہوگا جب میں تیرے کوچے کے اردگرد پھروں گا اس حالت میں کہ میرا چہرہ خون آلودہ اور گریبان ٹکڑے ٹکڑے ہوگا۔)
مسلم بن عوسجہ اسدی نے عرض کی:''کیاہم حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ابھی ہم نے حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کوئی حق اداکرکے اللہ تعالیٰ کے سامنے معذرت کی جگہ نہ پیداکی،خداکی قسم! میں تو آپرضی اللہ تعالیٰ عنہ کاساتھ نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اپنا نیزہ دشمنوں کے سینوں میں توڑدوں اورجب تک تلوار میرے ہاتھ
میں رہے ،وار کئے جاؤں ،خدا گواہ ہے اگرمیرے پاس ہتھیار بھی نہ ہوتے تومیں پتھر مارتا،یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکے ساتھ مارا جاتا۔'' اسی طرح اورسب ساتھیوں نے بھی گزارش کی ۔اللہ عزوجل ان سب کو جزائے خیر دے۔(المرجع السابق)
اورجنات الفردوس میں امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاساتھ اور ان کے جد کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا