Brailvi Books

آئینہ قیامت
51 - 100
ملاچاہتے ہو اور اپنا روزہ ہمارے پاس آکرافطارکیا چاہتے ہو ۔'' جوشِ مسرت میں امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ کھل گئی ،ملاحظہ فرمایاکہ دشمن حملہ آوری کا قصد کررہے ہیں ،جمعہ کے خیال اور پسماندوں کووصیت کرنے کی غرض سے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رات کی مہلت چاہی۔ابن سعد نے مشورہ لیا۔ عمروبن حجاج زبیدی نے کہا: ''اگر دیلم کے کافر بھی تم سے ایک رات کی مہلت مانگتے تودینی چاہے تھی ۔'' غرض مہلت دی گئی ۔
                       (المرجع السابق،ص۴۱۵)
لشکرامامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہکی طرف سے مقابلے کی تیاری
    یہاں یہ کارروائی ہوئی کہ سب خیمے ایک دوسرے کے قریب کردئیے گئے، طنابوں سے طنابیں ملادیں ،خیموں کے پیچھے خندق کھود کر نرکل وغیرہ خشک لکڑیوں سے بھردی۔اب مسلمان ان کاموں سے فارغ ہوکر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اورامام رضی اللہ تعالیٰ عنہاپنے اہل اور ساتھیوں سے فرما رہے ہیں:''صبح ہمیں دشمنوں سے ملنا ہے ،میں نے بخوشی تمام تم سب کواجازت دی ،ابھی رات باقی ہے جہاں جگہ پاؤچلے جاؤ اورایک ایک شخص میرے اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ایک ایک کو ساتھ لے جاؤ ،اللہ عزوجل تم سب کو جزائے خیر دے،دیہات وبلادمیں متفرق ہوجاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بلا ٹالے ،دشمن جب مجھے پائیں گے ،تمہاراپیچھا نہ کریں گے ۔''یہ سن کرامام کے بھائیوں،صاحبزادوں ،بھتیجوں اورعبداللہ ابن جعفر کے بیٹوں نے عرض کی: ''یہ ہم کس لئے کریں اس لئے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد زندہ رہیں، اللہ عزوجل ہمیں وہ منحوس دن نہ دکھائے کہ آپرضی اللہ تعالیٰ عنہنہ ہوں اور ہم باقی ہوں۔ ''
Flag Counter