Brailvi Books

آئینہ قیامت
50 - 100
تمہاری امان کی حاجت نہیں ،ابن سمیہ کی امان سے اللہ تعالیٰ کی امان بہتر ہے۔ ''
                                (المرجع السابق،ص۴۱۴)
شمر کی ابن سعد کے پاس آمد
    جب شمر نے ابن سعدکو ابن زیاد بدنہاد کا خط دیا ،اس نے کہا: ''تیرا برا ہو ، میرا خیال ہے کہ تونے ابن زیاد کو میری تحریرپرعمل کرنے سے پھیر کرکام بگاڑدیا ،مجھے صلح ہوجانے کی پوری امیدتھی،حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ توہرگزاطاعت کوقبول کریں گے ہی نہیں خداکی قسم! ان کے باپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل ان کے پہلو میں رکھا ہواہے ۔'' شمرنے کہا:''اب توکیا کرنا چاہتا ہے ؟''بولا:''جو ابن زیاد نے لکھا ۔'' شمر نے عباس اور ان کے حقیقی بھائيوں کو بلا کر کہا:''اے بھانجو!تمہیں امان ہے ۔'' وہ بولے: ''اللہ کی لعنت تجھ پراور تیری امان پر، ماموں بن کر ہمیں امان دیتا ہے اور رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹے رضی اللہ تعالیٰ عنہکوامان نہیں ۔ ''
 (المرجع السابق،ص۴۱۴)
نومحرم الحرام اورخواب میں جدِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تشریف آوری
    یہ پنجشنبہ کی شام اور محرم ۶۱ ؁ہجری کی نویں تاریخ ہے اس وقت سردارِجوانانِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ میں جہنمی لشکرکوجنبش دی گئی ہے اوروہ مے شہادت کا متوالا ،حیدری کچھارکا شیر ،خیمہ اطہر کے سامنے تیغ بکف جلوہ فرماہے۔آنکھ لگ گئی ہے ،خواب میں اپنے جدِکریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کودیکھا ہے کہ اپنے لختِ جگر کے سینہ پردستِ اقدس رکھے فرمارہے ہیں
''اَللّٰھُمَّ اَعْطِ الْحُسَیْنَ صَبْراًوَّاَجْراً''
الٰہی!عزوجل حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صبرواجرعطا کر۔ اورارشادہوتاہے کہ'' اب عنقریب ہم سے
Flag Counter