جب شمر نے ابن سعدکو ابن زیاد بدنہاد کا خط دیا ،اس نے کہا: ''تیرا برا ہو ، میرا خیال ہے کہ تونے ابن زیاد کو میری تحریرپرعمل کرنے سے پھیر کرکام بگاڑدیا ،مجھے صلح ہوجانے کی پوری امیدتھی،حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ توہرگزاطاعت کوقبول کریں گے ہی نہیں خداکی قسم! ان کے باپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل ان کے پہلو میں رکھا ہواہے ۔'' شمرنے کہا:''اب توکیا کرنا چاہتا ہے ؟''بولا:''جو ابن زیاد نے لکھا ۔'' شمر نے عباس اور ان کے حقیقی بھائيوں کو بلا کر کہا:''اے بھانجو!تمہیں امان ہے ۔'' وہ بولے: ''اللہ کی لعنت تجھ پراور تیری امان پر، ماموں بن کر ہمیں امان دیتا ہے اور رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹے رضی اللہ تعالیٰ عنہکوامان نہیں ۔ ''