یایزید کے پاس لے چلو یا کسی اسلامی سرحد پر چلا جاؤں ،اس میں تمہاری مراد حاصل ہے ۔'' حالانکہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید پلید کے پاس جانے کو ہرگزنہ فرمایا تھا ،ابن زیاد نے خط پڑھ کر کہا:''بہتر ہے۔''شمر ذِی الْجَوْشَن خبیث بولا :''کیا یہ باتیں مانے لیتاہے ؟خداکی قسم! اگر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہبے تیری اطاعت کئے چلے گئے توان کے لئے عزت وقوت ہوگی اور تیرے واسطے ضعف وذلت،یوں نہیں بلکہ تیرے حکم سے جائیں ،اگرتُوسزا دے تو مالک ہے اور اگرمعاف کرے تو تیرا احسان ہے ،میں نے سنا ہے کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن سعد میں رات رات بھر باتیں ہوتی ہیں ۔'' ابن زیاد نے کہا:''تیری رائے مناسب ہے تُومیرا خط ابن سعد کے پاس لے جا اگروہ مان لے تو اس کی اطاعت کرنا ورنہ تُوسردارِ لشکرہے اور ابن سعد کاسرکاٹ کر میرے پاس بھیج دینا ۔''پھر ابن سعدکولکھا کہ ''میں نے تجھے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اس لئے بھیجا تھا کہ توان سے دست کش ہو یاامیددلائے اورڈھیل دے یا ان کا سفارشی بنے،دیکھ! حسین سے میری فرمانبرداری کے لئے کہہ،اگرمان لیں تومطیع بنا کر یہاں بھیج دے ورنہ انہیں اوران کے ساتھیوں کو قتل کر ،اگرتو ہمارا حکم مانے گا توتجھے فرماں برداری کا انعام ملے گا ورنہ ہمارالشکر شمر کے لئے چھوڑدے ۔ ''
جب شمر نے خط لیا توعبداللہ ابن ابی المحل بن حزام اس کے ساتھ تھا ،اس کی پھوپھی ام البنین بنت حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہا مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی زوجہ اور پسرانِ مولیٰ علی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہم ،حضرت عباس وعثمان وعبداللہ وجعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہمکی والدہ تھیں ،اس نے ابن زیاد سے اپنے ان پھوپھی زاد بھائیوں کے لئے امان مانگی، اس نے لکھ دی ۔وہ خط اس نے ان صاحبوں کے پاس بھیجا ،انہوں نے فرمایا: ''ہمیں