Brailvi Books

آئینہ قیامت
48 - 100
ملے۔''کہا: ''نہ جاؤں گا ۔''مگر ناپاک دل میں تردد رہا، رات کو آواز آئی ،کوئی کہتاہے:
اَ اَتْرُکُ مُلْکَ الرَّیّ وَالرَّیّ رَغْبَۃ 



اَمْ اَرْجِعُ مَذْمُوْماً بِقَتْلِ حُسَیْنٖ 

وَفِیْ قَتْلِہِ النَّارُ الَّتِیْ لَیْسَ دُوْنَہَا



حِجَاب وَ مُلْکُ الرَّیّ قُرَّۃُ عین
 کہا: رے کی حکومت چھوڑدوں!اوروہ بڑی مرغوب چیز ہے یاقتل حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذمت گوارا کروں اور ان کے قتل میں وہ آگ ہے جس کی روک نہیں اور رے کی سلطنت آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
 (المرجع السابق،ص۴۱۲)
    آخر قتلِ امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی پر رائے قرارپائی ،بے دین نے
اَلدِّیْنُ مَزْرَعَۃُ الدُّنْیَا
کی ٹھہرائی۔
امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پانی بندہونا
    عمرو بن سعد نے فرات کے گھاٹوں پر پانسو سواربھیج کر ،ساقی کوثر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹےرضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پانی بند کیا۔ایک رات امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بُلا بھیجا، دونوں لشکروں کے بیچ میں حاضر آیا ۔دیر تک باتیں رہیں ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھایا کہ'' اہلِ باطل کا ساتھ چھوڑ۔'' کہا'' میراگھرڈھایا جائے گا ۔'' فرمایا :''اس سے بہتر بنوادوں گا ۔'' کہا ''میری جائیدادچھن جائے گی ۔'' ارشاد ہوا: ''اس سے اچھی عطا فرماؤں گا ۔ ''
(المرجع السابق،۴۱۳)
ابن سعدکاابن زیاد کو مصلحت آمیز خط اور شمر کا امام کے خلاف ورغلانا
    تین چارراتیں یہی باتیں رہیں ،جن کااثر اس قدر ہوا کہ ابن سعدنے ایک صلح آمیز خط ابن زیا د کو لکھاکہ'' حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ چاہتے ہیں یاتومجھے واپس جانے دو
Flag Counter