Brailvi Books

آئینہ قیامت
47 - 100
لشکر سے نفیرِ خواب بلند ہوئی ہے ،امام جنت مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے اتنی رات اسی موقع کے انتظار میں جاگ جاگ کر گزاری ہے ،کوچ کی تیاریاں فرما رہے ہیں اسباب جو شام سے بندھا رکھا تھا بار کیا گیا اور عورتوں بچوں کو سوار کرا یاگیاہے۔اب یہ مقدس قافلہ اندھیری رات میں فقط اس آسرے پر روانہ ہو گیا ہے کہ رات زیادہ ہے دشمن سوتے رہیں گے اورہم ان سے صبح ہونے تک بہت دور نکل جائیں گے ،باقی رات چلتے اور سواریوں کو تیز چلاتے گزری ۔
میدانِ کربلا میں آمد
    اب تقدیر کی خوبیاں دیکھئے کہ مظلوموں کو صبح ہوتی ہے تو کہاں ،کربلا کے میدان میں ،یہ محرم   ۶۱ھ؁ کی دوسری تاریخ اور پنج شنبہ کا دن ہے ۔عمروبن سعد اپنا لشکر لے کر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلے پر آگیا ہے ،اس بد بخت کو ابن زیاد بدنہادنے کفار دیلم کے جہاد پر مقرر کیا۔اورفتح کے صلے میں حکومت ''رے ''کافرمان لکھ دیا تھا۔ امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خبر پائی ،بد نصیب کی نیت بدی پر آئی ،بلا کر کہاکہ:'' ادھر کا قصد ملتوی رکھ ،پہلے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مقابل ہو ،فارغ ہو کر ادھر جانا۔''کہا: ''مجھے معاف کرو ۔''کہا :''بہتر مگر اس شرط پرکہ ہمارا نوشتہ واپس دے ۔'' اس نے ایک دن کی مہلت مانگ کر احباب سے مشورہ کیا،سب نے ممانعت کی اور اس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے کہا : ''اے ماموں! میں تجھے خداکی قسم دیتاہوں کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقابلہ کرکے گناہ گارنہ ہو ، اللہ کی قسم! اگرساری دنیا تیری سلطنت میں ہو تواسے چھوڑنا اس سے آسان ہے کہ تُو خداعزوجل سے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا  قاتل ہو کر
Flag Counter