| آئینہ قیامت |
آیا ہے میں اس کاخلاف نہیں کرسکتا کہ یہ قاصد مجھ پر جاسوس بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ ''
زہیر بن قین نے عرض کی:''خداکی قسم! اس کے بعد جو کچھ آئے گا وہ اس سے سخت تر ہوگا اس گروہ کا قتال ہمیں آئندہ آنے والوں کے قتال سے آسان ہے ۔'' ارشاد ہوا: ''ہم ابتدا نہ کریں گے ۔''یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ آفتاب غروب ہو گیا اورمحرم کی دوسری رات کا چانداپنی ہلکی ہلکی روشنی دکھانے لگا،دونوں لشکر علیحدہ علیحدہ ٹھہرے۔(المرجع السابق)
نواسۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شب میں روانگی
اب مشرقی کنا روں سے اندھیرا بڑھتا آتا ہے اور بزمِ فلک کی شمعیں روشن ہوتی جاتی ہیں، فضائے عالم کے سیاح اور خداعزوجل کی آزاد مخلوق پرند چہچہا چہچہا کر خاموش ہوگئے ہیں ،زمانے کی رفتار بتانے والی گھڑی اور عمروں کا حسا ب سمجھانے والی جنتری اسلامی سن کی تقویم جسے قدرت کے زبردست ہاتھ نے عرجون قدیم کی حد تک پہنچادیا ہے ،کچھ اپنی دلکش ادائیں دکھا کرروپوش ہو گئی ،تاریکیوں کا رنگ اب اور بھی گہرا ہو گیا ہے ۔نگاہیں جو تقریباً دو گھنٹے پہلے دنیا کی وسیع آبادی میں دُور کی چیزوں کوبہ اطمینان تمام دیکھتی اورپرکھ سکتی تھیں،اب یہ تھوڑے فاصلہ پربھی کام دینے میں الجھتی بلکہ ناکام رہ جاتی ہیں اوراگرکچھ نظر بھی آجاتا ہے تو رات کی سیاہ چلمن اسے صاف معلوم ہونے سے روکتی ہے۔ وقت کے زیادہ گزرنے اور بول چال کے موقوف ہوجانے نے سناٹا پیداکر دیا ہے رات اور بھی بھیانک ہو گئی ہے ۔شب بیدارستاروں کی آنکھیں جھکی پڑی ہیں ، سونے والے لمبیاں تانے سورہے ہیں ،نیند کا جادوزمانے پرچل گیا ہے،حرکے