| آئینہ قیامت |
رہے گی حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ تک دشمن نہ پہنچ سکیں گے ۔ارشادہوا:''اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے ،ہمارااور کوفیوں کا کچھ قول ہوگیا ہے جس سے ہم پھرنہیں سکتے۔''یہ فرماکر انہیں رخصت کیا ۔
(المرجع السابق،ص۴۰۹)
امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خواب دیکھنا
امام رضی اللہ تعالیٰ عنہنے راہ میں ایک خواب دیکھا ،جاگے تو ''انا للہ وانا الیہ راجعون والحمد للہ رب العالمین''کہتے ہوئے اٹھے ۔امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہنے عرض کی:'' اے میرے والد! میں آپ پرقربان ،کیا بات ملاحظہ فرمائی ؟'' فرمایا: ''خواب میں ایک سوار دیکھا،کہہ رہا ہے، لوگ چلتے ہیں اور ان کی قضائیں ان کی طرف چل رہی ہیں میں سمجھاکہ ہمیں ہمارے قتل کی خبردی جاتی ہے۔''حضرتِ عابد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ''اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکوئی برائی نہ دکھائے کیا ہم حق پر نہیں۔ '' فرمایا: ''ضرورہیں۔'' عرض کی: ''جب ہم حق پر جان دیتے اور قربا ن ہوتے ہیں،توکیا پرواہ ہے۔''فرمایا: ''اللہ تعالیٰ تم کو ان سب جزاؤں سے بہتر جزادے جو کسی بیٹے کوکسی باپ کی طرف سے ملے۔''
(المرجع السابق،ص۴۱۱)
ابن زیاد کی طرف سے امامِ عرش مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سختی کا حکم
جب نینویٰ پہنچے توایک سوارکوفے سے آتا ملا ،اس نے حُرکو ابن زیاد کا خط دیا، لکھاتھا: ''حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہپرسختی کر ،جہاں اتریں میدان میں اتریں ،پانی سے دور ٹھہریں ،یہ قاصد برابرتیرے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ مجھے خبردے کہ تونے میرے حکم کی کیا تعمیل کی ۔'' حر نے خط پڑھ کر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گزارش کی کہ ''مجھے یہ حکم