عبید اللہ عامری نے عرض کی:'' شہرکے رئیسوں کو بھاری رشوتوں سے توڑ لیا گیا اوران کی تھیلیوں کوروپوں اشرفیوں سے بھر دیا گیا ہے وہ توایک زبان حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مخالف ہو گئے ۔رہے عوام ان کے دل حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب جھکتے ہیں اورکل انہیں کی تلواریں حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہپرکھنچیں گی۔ ''فرمایا:''میرے قاصد قیس کاکیاحال ہے؟'' کہا: ''قتل کئے گئے۔''امام رضی اللہ تعالیٰ عنہبے اختیارروپڑے اور فرمایا: ''کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی انتظار میں ہے،الٰہی!عزوجل ہمیں اور انہیں جنت میں جمع فرما۔ ''
طرماح بن عدی نے عرض کی:''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ گنتی کے آدمی ہیں اگرحرکی جماعت ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہسے لڑے توکفایت کر سکتی ہے ،نہ کہ وہ جماعت جو چلنے سے ایک دن پہلے میں نے کوفہ میں دیکھی تھی ،جوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف روانگی کے لئے تیارہے ۔میں نے اپنی تمام عمرمیں اتنی بڑی فوج کبھی نہ دیکھی ،میں حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہکو قسم دیتا ہوں کہ اگران سے ایک بالشت بھر جدائی کی قدرت ہو تو اسی قدرکیجئے اوراگروہ جگہ منظورہو جہاں باذن اللہ تعالیٰ آرام واطمینان سے قیام فرما کر تدبیر فرمائیے تومیرے ساتھ کوہ اجأکی طرف چليے، واللہ!اس پہاڑکے سبب سے ہم بادشاہان غسان وحمیر اورنعمان بن المنذر بلکہ عرب وعجم کے سب حملوں سے محفوظ رہے ۔''حضور!رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں ٹھہر کراجأاورسلمی کے رہنے والوں کو فرمان تحریر فرمائيے ،خداکی قسم! دس دن نہ گزریں گے کہ قومِ طیئ کے سوارو پیادے حاضرخدمت ہوں گے ،پھر جب تک مرضی مبارک ہو ہم میں ٹھہرئيے اور اگر پیش قدمی کاقصد ہو تو بنی طیئ سے بیس ہزارجوان حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کردینے کامیراذمہ ہے ، جوحضورکے سامنے تلوار چلائیں گے اورجب تک ان میں کوئی آنکھ پلک مارتی باقی