Brailvi Books

آئینہ قیامت
43 - 100
     حرنے عرض کی:'' واللہ! ہم نہیں جانتے کیسے خط اورکیسے قاصد؟ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو خرجیاں بھرے ہوئے خط نکال کرسامنے ڈال دئیے۔حرنے کہا:''میں خط بھیجنے والوں میں نہیں ، مجھے تویہ حکم دیا گیا ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پاؤں توکوفہ ،ابن زیاد کے پاس پہنچاؤں۔'' فرمایا: ''تیری موت نزدیک ہے اور یہ ارادہ دور۔'' پھر ہمراہیوں کوحکم دیاکہ''واپس چلیں۔''حرنے روکا۔فرمایا:''تیری ماں تجھے روئے کیا چاہتا ہے؟ '' کہا: ''سنئے !خداکی قسم! آپ کے سواتمام عرب میں کوئی اور یہ بات کہتا تومیں اس کی ماں کو برابرسے کہتا۔کسے باشد،مگرواللہ!آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں رضی اللہ تعالیٰ عنہاکانامِ پاک تو میں ایسے موقع پرلے ہی نہیں سکتا۔''فرمایا:''آخرمطلب کیاہے؟ '' عرض کی: ''ابن زیادکے پاس حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لے چلنا۔''فرمایا: ''توخداکی قسم!میں تیرے ساتھ نہ چلوں گا ۔'' کہا :''توخداکی قسم !آپ کو نہ چھوڑوں گا ۔'' 

    جب بات بڑھی اورحُرنے دیکھا امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ یوں راضی نہ ہوں گے اور کسی گستاخی کی نسبت ان کے ایمان نے اجازت نہ دی تویہ عرض کی کہ ''میں دن بھر تو حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علیحدہ ہونہیں سکتا ،ہاں جب شام ہوتوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے عورتوں کی ہمراہی کا عذرفرما کرعلیحدہ ٹھہرئیے اوررات میں کسی وقت موقع پا کر تشریف لے جائیے ،میں ابن زیاد کوکچھ لکھ بھیجوں گا ۔شاید اللہ تعالیٰ کوئی وہ صورت کرے کہ میں کسی معاملہ میں مبتلا ہونے کی جرأت نہ کرسکوں۔''
(الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃاحدی وستین...الخ،ج۳،ص۴۰۷ملخصاً)
کوفیوں کی بے وفائی اور قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر
    جب عذیب الہجانات پہنچے ،کوفے سے چارشخص آتے ملے ،حال پوچھا ،مجمع بن
Flag Counter