Brailvi Books

آئینہ قیامت
42 - 100
اطمینان کے ساتھ دشمن سے مقابلہ کرسکیں۔'' کہا:''ہاں! کوہ ذوحسم ،اگرحضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے پہلے اس تک پہنچ گئے۔''

    یہ باتیں ہورہی تھیں کہ سوار نظرآئے اورامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سبقت فرما کرپہاڑ کے پاس ہو لئے ،جب وہ اورقریب آئے تومعلوم ہواکہ حُرہیں جوایک ہزارسواروں پر افسر بناکر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوابن زیادبدنہادکے پاس لے جانے کے لئے بھیجے گئے ہیں ،اس ٹھیک دوپہرمیں اصحابِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہمکے سامنے اترے۔ مالکِ کوثر کے بیٹے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ'' انہیں اور ان کے گھوڑوں کو پانی پلاؤ۔'' ہمراہیانِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہمنے پانی پلایا۔

    جب ظہرکاوقت ہوا ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مؤذن کواذان کا حکم دیا،پھران لوگوں سے فرمایا: ''تمہاری طرف میراآنااپنی مرضی سے نہ ہوا،تم نے خط اور قاصدبھیج بھیج کربلایا، اب اگر اطمینان کا اقرار کرو،تومیں تمہارے شہرکوچلوں ورنہ واپس جاؤں ۔'' کسی نے جواب نہ دیا اورمؤذن سے کہا :تکبیر کہو ۔امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حرسے فرمایا:''اپنے ساتھیوں کو تم نمازپڑھاؤگے؟''کہا:''نہیں،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پڑھائیں اورہم سب مقتدی ہوں گے۔ بعدِنماز حر،اپنے مقام پر گئے۔امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کے بعد ان لوگوں سے ارشاد کیا:''اگرتم اللہ عزوجل سے ڈرو اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچانو تو خداتعالیٰ کی رضامندی اسی میں ہے کہ ہم اہلِ بیت ان ظالموں کے مقابلہ میں ا ولی الامر ہونے کے مستحق ہیں ، بایں ہمہ اگرتم ہمیں ناپسند کرواورہمارا حق نہ پہچانو اوراپنے خطوں اور قاصدوں کے خلاف ہمارے بارے میں رائے رکھنا چاہو تومیں واپس جاؤں۔ ''