Brailvi Books

آئینہ قیامت
41 - 100
عنہ کی شہادت کی خبر معلوم ہونے پر بعض ساتھیوں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہکوقسم دی کہ یہیں سے پلٹ چلئے ۔ مسلم شہیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عزیزوں نے کہا :''ہم کسی طرح نہیں پلٹ سکتے ،یاخونِ نا حق کابدلہ لیں گے یامسلم مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاملیں گے ۔'' امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''تمہارے بعدزندگی بے کارہے ۔''پھرجولوگ راہ میں ساتھ ہولئے تھے ان سے ارشادکیا :''کوفیوں نے ہمیں چھوڑدیا، اب جس کے جی میں آئے پلٹ جائے ،ہمیں کچھ ناگوارنہ ہوگا۔'' یہ اس غرض سے فرمادیا کہ لوگ یہ سمجھ کر ہمراہ ہوئے تھے کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسی جگہ تشریف لیے جاتے ہیں جہاں کے لوگ داخلِ بیعت ہو چکے ہیں ،یہ سن کر سواان چند بندگانِ خداکے جومکہ معظمہ سے ہم رکاب سعادت مآب تھے ،سب اپنی اپنی راہ گئے ۔

    پھر ایک عربی ملے،عرض کی کہ'' اب تیغ وسناں پرجاناہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکو قسم ہے واپس جائیے ۔'' فرمایا:''جوخداچاہتاہے ہوکررہتاہے ۔''
 (الکامل فی التاریخ،ذکر مسیر الحسین الی الکوفۃ،ج۳،ص۴۰۳ملخصاً )
حضرت حر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد
    اب امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ موضع شراف سے آگے بڑھے ہیں ۔یہ دوپہرکا وقت ہے،یکایک ایک صاحب نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ،فرمایا:''کیاہے؟'' کہا:''کھجورکے درخت نظر آتے ہیں۔'' قبیلہ بنی اسد کے دوشخصوں نے کہا: ''اس زمین میں کھجورکبھی نہ تھے۔'' فرمایا:''پھر کیا ہے ؟'' عرض کی:'' سوارمعلوم ہوتے ہیں ۔'' فرمایا: ''میرا بھی یہی خیا ل ہے، اچھا تویہاں کوئی پناہ کی جگہ ہے کہ اسے ہم اپنی پشت پر لے کر
Flag Counter