| آئینہ قیامت |
واپس آئے تواپنااسباب امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسباب میں رکھ دیا اورساتھیوں سے کہا: جومیرے ساتھ رہنا چاہے رہے ورنہ یہ ملاقات پچھلی ملاقات ہے ،پھر اپنا سامان لے آنے اور امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوجانے کا سبب بیان کیا کہ شہربلنجر پرہم نے جہاد کیا ،وہ فتح ہوا،کثیر غنیمتوں کے ملنے پر ہم بہت خوش ہوئے ۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''جب تم جوانانِ آلِ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہمکے سردار کوپاؤ توان کے ساتھ دشمن سے لڑنے پراس سے زیادہ خوش ہونا۔''اب وہ وقت آگیا،میں تم سب کوسپردبخداکرتاہوں،پھر اپنی بی بی کو طلاق دے کرکہا: ''گھر جاؤ، میں نہیں چاہتاکہ میرے سبب سے تم کوکوئی نقصان پہنچے ۔ ''
(الکامل فی التاریخ،ذکر مسیر الحسین الی الکوفۃ،ج۳،ص۴۰۳)
خداعزوجل جانے ان اچھی صورت والوں کی اداؤں میں کس قیامت کی کشش رکھی گئی ہے ،یہ جسے ایک نظردیکھ لیتے ہیں، وہ ہر طرف سے ٹوٹ کرانہیں کا ہو رہتا ہے۔ پھر یاروں سے یاری رہتی ہے نہ زن وفرزندکی پاسداری ۔آخریہ وہی زہیرتوہیں جو مولیٰ علی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کدورت رکھتے اوررات کو امام رضی اللہ تعالیٰ عنہسے علیحدہ ٹھہرتے تھے، یہ انہیں کیا ہوگیا ؟اورکس کی ادانے بازرکھاجوعزیزوں کاساتھ چھوڑ ،عورت کو طلاق دینے پر مجبورہوکر بے کسی سے جان دینے اور مصیبتیں جھیل کر شہید ہونے کو آمادہ ہو گئے۔
امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر
اب یہ قافلہ اوربڑھا توابن اشعث کا بھیجا ہواآدمی ملا ،جوحضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت پر عمل کرنے کی غرض سے بھیجا گیاتھا ،اس سے حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ