| آئینہ قیامت |
پر گیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدوثناکے بعد بلند آواز سے کہنے لگا: ''حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج تمام جہان سے افضل ہیں ،رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ زہرارضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کلیجے کے ٹکڑے ہیں،مولیٰ علی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں کے نور،دل کے سُرُورہیں ،میں ان کاقاصد ہوں ،ان کا حکم مانو اور ان کی اطاعت کرو''پھر کہا: ابنِ زیاد اور اس کے باپ پرلعنت۔ آخرِ کار اس مردک نے جل کرحکم دیا کہ چھت سے گرا کرشہید کئے جائيں ۔
(الکامل فی التاریخ،ذکر مسیر الحسین الی الکوفۃ،ج۳،ص۴۰۲)
اس وقت اس بادۂ الفت کے متوالے کابے قراردل ،امامِ عرش مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منہ کئے التجا کے لہجے میں عرض کر رہا ہے :
بجرم عشق توام مے کشندغوغائیست تونیزبرسربام آکہ خوش تماشائیست
(یعنی تیرے عشق کے جرم میں مجھے قتل کررہے ہیں اس لیے شوروغوغا ہے تو بھی چھت پر آکے دیکھ بہت خوبصورت نظارہ ہے)
زہیر بن قین بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت
امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے توراہ میں زہیر بن قین بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے،وہ حج سے واپس آتے تھے اورمولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کچھ کدورت رکھتے تھے ۔ دن بھر امام کے ساتھ رہتے ،رات کو علیحدہ ٹھہرتے ۔ایک روز امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلا بھیجا، بکراہت آئے ،خداعزوجل جانے کیا فرمادیااورکس اداسے دل چھین لیا کہ اب جو