Brailvi Books

آئینہ قیامت
38 - 100
سنگِ باراں سے بچا جامِ بلوریں اپنا 

ایسے لوگوں میں جوپتھر سے ہیں بدترمت جا 

گلِ شادابِ نبی اپنے چمن سے نہ نکل 

نازنیں پھول ہے تُوکانٹوں کے اندرمت جا 

چلتے ہیں صرصرِآفات کے مُظْلِم جھونکے 

شمع رُو قلعۂ فانوس سے باہر مت جا 

بُوسعید، ابنِ عمر، جابر، و ابنِ عباس

تھایہی کلمہ سب اصحاب کے لب پر مت جا 

بیدل ؔاس شاہ کومقتل میں قضا لے ہی گئی 

کہتے سب رہ گئے اے دین کے سرورمت جا
    جب امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی امام محمدبن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوروانگیٔ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خبر پہنچی ،طشت میں وضو فرما رہے تھے ،اس قدرروئے کہ طشت آنسوؤں سے بھردیا ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہتھوڑی دور پہنچے ہیں کہ فَرَزْدَقْ شاعرکوفے سے آتے ملے ، کوفیوں کاحال پوچھا،عرض کیا: ''اے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے !ان کے دل حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہیں اوران کی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ،قضاآسمان سے اترتی ہے اورخداجوچاہتاہے کرتا ہے۔ ''
ابن زیاد کی جانب سے ناکہ بندی
    غرض ادھر توامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ روانہ ہوئے ،ادھر ابن زیاد بدنہاد بانی فسادکو جب یہ خبر پہنچی،قادسیہ سے خفان وکوہ لعلع اورقطقطانہ تک فوج سے ناکہ بندیاں کرادیں اور قیامت تک مسلمانوں کے دلوں کوگھائل کرنے اورکلیجوں میں گھاؤڈالنے کی بنیاد ڈال دی۔ امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قیس بن مسہرکواپنی تشریف آوری کی اطلاع دینے کوفے بھیجا،جب یہ مرحوم قادسیہ پہنچے ،ابن زیاد کے سپاہی گرفتارکرکے اس خبیث کے پاس لے گئے ۔اس مردود نے کہا:''اگرجان کی خیرچاہتے ہو تو اس چھت پرچڑھ کرحسین کوگالیاں دو۔''یہ سن کروہ خاندانِ نبوت کافدائی اہلِ بیتِ رسالت کا شیدائی چھت
Flag Counter