اسی طرح عبد اللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہمانے منع کیا،نہ مانا،انہوں نے پیشانی مبارک پر بوسہ دے کرکہا:''اے شہیدہونے والے!میں تمہیں خداعزوجل کوسونپتاہوں ۔ ''
یوہیں عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے روکا ،فرمایا:''میں نے اپنے والد ماجد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ ایک مینڈھے کے سبب سے مکے کی بے حرمتی کی جائے گی، میں پسند نہیں کرتاکہ وہ مینڈھا میں بنوں ۔''جب روانہ ہولئے ،راہ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچازادبھائی حضرت عبداللہ ابن جعفرطیاررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ملا، لکھا تھا،''ذرا ٹھہرئیے میں بھی آتاہوں۔ ''
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمروبن سعید حاکم مکہ سے امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ایک خط ''امان اور واپس بلانے کا'' مانگا ،انہوں نے لکھ دیا اور اپنے بھائی یحیي بن سعید کوواپس لانے کے لئے ساتھ کر دیا ۔دونوں حاضر آئے اور سرسے پاؤں تک گئے کہ واپس تشریف لے چلیں ،مقبول نہ ہوا۔فرمایا:'' میں نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کوخواب میں دیکھا ہے اورمجھے ایک حکم دیا گیا ہے ،اس کی تعمیل کروں گا ،سرجائے خواہ رہے۔''پوچھا:''وہ خواب کیا ہے ؟'' فرمایا:''جب تک زندہ ہوں کسی سے نہ کہوں گا ۔'' یہ فرما کر روانہ ہوگئے ۔