Brailvi Books

آئینہ قیامت
36 - 100
    غرض ان کیفیتوں نے کچھ ایسا ازخودرفتہ بنا دیا ہے کہ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بقرہ عید کی آٹھویں تاریخ کوفے کاقصد فرما لیا،جب یہ خبر مشہور ہوئی تو عمر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ارادے کا خلاف کیا اور جانے سے مانع آئے، فرمایا: ''جوہونی ہے، ہوکررہے گی۔'' عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نہایت عاجزی سے روکنا چاہا ،اور عرض کی:''کچھ دنوں تأمل فرمائیے اورانتظارکیجئے ،اگرکوفی ابنِ زیاد کو قتل کردیں اوردشمنوں کونکال باہر کر یں توجانئے کہ نیک نیتی سے بلاتے ہیں اوراگروہ ان پرقابض اوردشمن موجود ہیں ہرگزوہ حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہکوبھلائی کی طرف نہیں بلاتے ،میں اندیشہ کرتاہوں کہ یہ بلانے والے ہی مقابل آئیں گے۔'' فرمایا: ''میں استخارہ کروں گا۔''عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما پھر آئے اورکہا: ''بھائی صبرکرناچاہتا ہوں مگرصبرنہیں آتا،مجھے اس روانگی میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کا اندیشہ ہے ،عراقی بدعہد ہیں ،انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا  ساتھ نہ دیا ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہلِ عرب کے سردار ہیں ،عرب ہی میں قیام رکھئے یاعراقیوں کو لکھئے کہ وہ ابنِ زیاد کو نکال دیں ،اگرایسا ہوجائے تشریف لے جائیے اوراگر تشریف ہی لے جانا ہے تو یمن کاقصدفرمائیے کہ وہاں قلعے ہیں ،گھاٹیاں ہیں اوروہ ملک وسیع زمین رکھتاہے۔'' فرمایا:''بھائی خداکی قسم!میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکوناصح مشفق جانتاہوں،مگرمیں تو ارادۂ مصمم کرچکا۔'' عرض کی:'' توبیبیوں اور بچوں کوتوساتھ نہ لے جائیے ۔'' یہ بھی منظور نہ ہوا۔

    عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماہائے پیارے!ہائے پیارے!کہہ کررونے لگے۔