جب ابن زیاد بدنہاد کے سامنے گئے،اسے سلام نہ کیا وہ بھڑکا اور کہا: تم ضرورقتل کئے جاؤ گے ۔ فرمایا:'' تو مجھے وصیت کر لینے دے۔'' اس نے اجازت دی ۔ مسلم مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمروبن سعدسے فرمایا:'' مجھ میں تجھ میں قرا بت ہے اور مجھے تجھ سے ایک پوشیدہ حاجت ہے۔اس سنگدل نے کہا میں سننا نہیں چاہتا۔ابن زیاد بولا '' سن لے کہ یہ تیرے چچا کی اولاد ہیں۔'' وہ الگ لے گیا،فرمایا: '' کوفہ میں،میں نے سات سودرہم قرض لئے ہیں وہ اداکردینا،اوربعدقتل میراجنازہ ابن زیاد سے لیکر دفن کرادینا اورامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کسی کوبھیج کرمنع کرابھیجنا ۔'' ابن سعد نے ابنِ زیاد سے یہ سب باتیں بیان کردیں ۔وہ بولا:''کبھی خیانت کرنے والے کو بھی امانت سپردکی جاتی ہے''یعنی انہوں نے پوشیدہ رکھنے کوفرمایا،تونے ظاہر کردیں، اپنے مال کاتجھے اختیار ہے جوچاہے کراور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرہماراقصد نہ کریں گے ،ہم ان کانہ کریں گے ،ورنہ ہم ان سے باز نہ رہیں گے ،رہامسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاجنازہ ،اس میں ہم تیری سفارش سننے والے نہیں ،پھر حکم پاکرجلادظالم انہیں بالائے قصرلے گیا ،امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ برابرتسبیح واستغفارمیں مشغول تھے یہاں تک کہ شہید کئے گئے اوران کاسرمبارک یزیدکے پاس بھیجا گیا ۔