وطن چھوڑ کر عزیزوں سے منہ موڑ کر اپنے رب جل جلالہ کے مقدس اور برگزیدہ گھر کی زیارت سے مشرف ہونے حاضرآئے ہیں ،دلوں میں فرحت نے ایک جوش پیدا کردیا ہے ،اور سینوں میں سرور لہریں لے رہا ہے کہ یہی ایک رات بیچ میں ہے صبح نویں تاریخ ہے اور مہینوں کی محنت وصول ہونے ،مدتوں کے ارمان نکلنے کا مبارک دن ہے۔مسلمان خانہ کعبہ کے گرد پھرپھر کر نثار ہورہے ہیں ،مکہ معظمہ میں ہر وقت کی چہل پہل نے دن کوروزِ عید اوررات کو شبِ براء ت کا آئینہ بنا دیا ہے۔کعبہ کا دلکش بناؤ، کچھ ایسی دل آویز اداؤں کا سامان اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے کہ لاکھوں کے جمگھٹ میں جسے دیکھئے شوق بھری نگاہوں سے اسی کی طرف دیکھ رہا ہے ۔معلوم ہوتا ہے کہ سیاہ پردے کی چِلمن سے کسی محبوب دلنواز کی پیاری پیاری تجلیاں چھن چھن کر نکل رہی ہیں،جن کی ہوش ربا تاثیروں ،دلکش کیفیتوں نے یہ مجلس آرائیاں کی ہیں ۔عاشقانِ دِلدادہ فرقت کی مصیبتیں ،جدائی کی تکلیفیں جھیل کرجب خوش قسمتی سے اپنے پیارے محبوب کے آستانہ پر حاضری کاموقعہ پاتے ہیں ،ادب وشوق کی الجھن ،مسرت آمیز بے قراری کی خوش آئند تصویر ان کی آنکھوں کے سامنے کھینچ دیتی ہے اور وہ اپنی چمکتی ہوئی تقدیرپر طرح طرح سے نازکرتے اور بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں: