Brailvi Books

آئینہ قیامت
32 - 100
اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے امان ہے نہ آپ قتل کئے جائیں نہ کوئی گستاخی ہو ۔''مسلم مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھک کردیوارسے  پیٹھ لگاکربیٹھ گئے ، خچرسواری کے لئے حاضرہوا، اس پرسوار کئے گئے ،ایک نے تلوار حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے لے لی ،فرمایا:یہ پہلا مکر ہے۔ ابن اشعث نے کہا:''کچھ خوف نہ کیجئے ۔''فرمایا: ''وہ امان کدھر گئی ۔'' پھررونے لگے ۔ ایک شخص بولا: ''تم جیسا بہادراور روئے !۔ ''فرمایا:''اپنے لئے نہیں روتاہوں، رونا حسین اورآلِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہے کہ وہ تمہارے اطمینان پرآتے ہوں گے اور انہیں اس مکرو بدعہدی کی خبر نہیں۔''پھر ابن اشعث سے فرمایا:''میں دیکھتا ہوں کہ تم مجھے پناہ دینے سے عاجز رہو گے اورتمہاری امان کام نہ دے گی ، اگرہوسکے تو اتنا کرو کہ اپنے پاس سے کوئی آدمی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج کرمیرے حال کی اطلاع دے دو کہ وہ واپس جائیں اورکوفیوں کے فریب میں نہ آئیں ۔ ''
    جب مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن زیاد بدنہاد کے پاس لائے گئے ،ابن اشعث نے کہا: میں انہیں امان دے چکا ہوں ۔وہ خبیث بولا:''تجھے امان دینے سے کیا تعلق ؟ہم نے تجھے ان کے لانے کو بھیجا تھا نہ کہ امان دینے کو۔'' ابن اشعث چپ رہے ،مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شدتِ محنت اور زخموں کی کثرت میں پیاسے تھے ۔ٹھنڈے پانی کا ایک گھڑادیکھا، فرمایا:''مجھے اس میں سے پلا دو ۔'' ابن عمروباہلی بولا:''دیکھتے ہو کیسا ٹھنڈاہے ،تم اس میں سے ایک بوند نہ چکھنے پاؤ گے ،یہاں تک کہ( معاذاللہ )جہنم میں آب ِگرم پیو۔ ''

    امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اوسنگ دل! درشت خو!آب حمیم ونارِجحیم کاتو مستحق ہے۔ '' پھرعمارہ بن عقبہ کو ترس آیا ،ٹھنڈاپانی منگا کرپیش کیا، امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پینا چاہا ،پیالہ خون سے بھر گیا،تین بارایسا ہی ہوا،فرمایا: ''خداکوہی منظورنہیں ۔ ''
Flag Counter