اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے امان ہے نہ آپ قتل کئے جائیں نہ کوئی گستاخی ہو ۔''مسلم مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھک کردیوارسے پیٹھ لگاکربیٹھ گئے ، خچرسواری کے لئے حاضرہوا، اس پرسوار کئے گئے ،ایک نے تلوار حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے لے لی ،فرمایا:یہ پہلا مکر ہے۔ ابن اشعث نے کہا:''کچھ خوف نہ کیجئے ۔''فرمایا: ''وہ امان کدھر گئی ۔'' پھررونے لگے ۔ ایک شخص بولا: ''تم جیسا بہادراور روئے !۔ ''فرمایا:''اپنے لئے نہیں روتاہوں، رونا حسین اورآلِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہے کہ وہ تمہارے اطمینان پرآتے ہوں گے اور انہیں اس مکرو بدعہدی کی خبر نہیں۔''پھر ابن اشعث سے فرمایا:''میں دیکھتا ہوں کہ تم مجھے پناہ دینے سے عاجز رہو گے اورتمہاری امان کام نہ دے گی ، اگرہوسکے تو اتنا کرو کہ اپنے پاس سے کوئی آدمی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج کرمیرے حال کی اطلاع دے دو کہ وہ واپس جائیں اورکوفیوں کے فریب میں نہ آئیں ۔ ''