Brailvi Books

آئینہ قیامت
31 - 100
بھی ہو گئے اورحضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہاں تک باتوں میں لے کر اطمینان دلایا کہ انہوں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوتشریف لانے کی نسبت لکھا ۔ 

    ادھریزید پلید کوکوفیوں نے خبر دی کہ''حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبھیجا ہے ۔کوفہ کے حاکم نعمان بن بشیر ان کے ساتھ نرمی کابرتاؤ کرتے ہیں، کوفہ کابھلا منظور ہے تواپنی طرح کوئی زبردست ظالم بھیج ۔ 

    اس نے عبد اللہ ابن زیادکوحاکم بناکرروانہ کیا اورکہاکہ ''مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوشہید کر ے یا کوفہ سے نکال دے ۔''جب یہ مردک کوفہ پہنچا امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ اٹھارہ ہزارکی جماعت پائی ،امیروں کودھمکانے پرمقررکیا ،کسی کودھمکی دی، کسی کولالچ سے توڑا ۔یہاں تک کہ تھوڑی دیرمیں امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس صرف تیس آدمی رہ گئے ۔مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دیکھ کرمسجدسے باہرنکلے کہ کہیں پناہ لیں۔ جب دروازہ سے باہرآئے ،ایک بھی ساتھ نہ تھا۔اناللہ واناالیہ راجعون۔آخرایک گھر میں پناہ لی۔ ابن زیاد نے یہ خبر پاکرفوج بھیجی،جب امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آوازیں پہنچیں ،تلوارلے کراٹھے اوران روباہ منشوں کومکان سے باہرنکال دیا،کچھ دیربعدپھر جمع ہوکرآئے ،شیرِخدارضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھتیجا رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر تیغ بکف اٹھا اورآن کی آن میں ان شغالوں کو پریشان کردیا،کئی بار ایساہی ہوا جب ان نامردوں کااس اکیلے مردِ خدا پرکچھ بس نہ چلا،مجبورہوکرچھتوں پرچڑھ گئے پتھراور آگ کے لوکے پھینکنے شروع کئے۔ شیرِمظلوم کا تن ان ظالموں کے پتھروں سے خوناخون تھا،مگروہ تیغِ برکف و کف برلب حملہ فرماتاباہرنکلا،اورراہ میں جوگروہ کھڑے تھے ان پرعقاب ِعذاب کی طرح ٹوٹا۔جب یہ حالت دیکھی، ابن اشعث نے کہاکہ''آپ رضی