| آئینہ قیامت |
راستے میں عبد اللہ بن مطیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے ،عرض کی:''کہاں کا قصد فرمالیا؟'' فرمایا: ''فی الحال مکہ کا ۔''عرض کی:''کوفے کاعزم نہ فرمایا جائے وہ بڑابے ڈھنگاشہر ہے ،وہاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدِماجدرضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دغاکی گئی ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے کے سوا کہیں کا ارادہ نہ فرمائیں ،اگرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہیدہوجائیں گے توخداکی قسم!ہماراٹھکانانہ لگارہے گا،ہم سب غلام بنا لئے جائیں گے۔'' بالآخرحضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ پہنچ کرساتویں ذی الحجہ تک امن وامان کے ساتھ قیام فرما رہے ۔
(الکامل فی التاریخ،ذکر الخبر عن مراسلۃ الکوفیین...الخ،ج۳،ص۳۸۱)
کوفیوں کی طرف سے فریادوجھوٹے وعدے اور امامِ مسلم کی شہادت
جب اہلِ کوفہ کویزیدخبیث کی تخت نشینی اورامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت طلب کئے جانے اورامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مدینہ چھوڑ کرمکے تشریف لے آنے کی خبرپہنچی، فریب دہی وعیاری کی پرانی روش یاد آئی۔سلیمان بن صردخزاعی کے مکان پرجمع ہوئے، ہم مشورہ ہوکرعرضی لکھی کہ تشریف لائیے اورہم کویزید کے ظلم سے بچائیے۔ ڈیڑھ سو عرضیاں جمع ہوجانے پرامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریر فرمایا کہ ''اپنے معتمدچچازاد بھائی مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبھیجتا ہوں ،اگریہ تمہارامعاملہ ٹھیک دیکھ کراطلاع دیں گے توہم جلدتشریف لائیں گے ۔ ''
حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ پہنچے ،ادھرکوفیوں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومدد دینے کا وعدہ کیا ،بلکہ اٹھارہ ہزار داخلِ بیعت