آنکھیں پھیرنی کیسی!اگرامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومدینہ نہ چھوڑنے پرقتل کردیا جاتا توقتل ہونا منظورفرماتے اورمدینہ سے پاؤں باہر نہ نکالتے ،مگر اس مجبوری کا کیا علاج کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ناقہ کوقضا، مہارپکڑے اس میدان کی جانب لئے جاتی ہے، جہاں قسمت نے پردیسیوں کے قتل ہونے ،پیاسوں کے شہیدکئے جانے کا سامان جمع کیاہے۔مدینے کی زمین جس پرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھٹنوں چلے جس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بچپن کی بہاریں دیکھیں،جس پرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جوانی کی کرامتیں ظاہر ہوئیں، اپنے سرپر خاکِ حسرت ڈالتی اورپردیس جانے والے کے پیارے پیارے نازک پاؤں سے لپٹ لپٹ کر زبانِ حال سے عرض کر رہی ہے کہ'' اے فاطمہ رضی اللہ عنہاکی گودکے سنگھار!کلیجے کی ٹیک !زندگی کی بہار!کہاں کا ارادہ فرمادیا؟وہ کون سی سرزمین ہے جسے یہ عزت والے پاؤں جومیری آنکھوں کے تارے ہیں،شرف بخشنے کاقصد فرماتے ہیں ؟