Brailvi Books

آئینہ قیامت
29 - 100
آنکھیں پھیرنی کیسی!اگرامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومدینہ نہ چھوڑنے پرقتل کردیا جاتا توقتل ہونا منظورفرماتے اورمدینہ سے پاؤں باہر نہ نکالتے ،مگر اس مجبوری کا کیا علاج کہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ناقہ کوقضا، مہارپکڑے اس میدان کی جانب لئے جاتی ہے، جہاں قسمت نے پردیسیوں کے قتل ہونے ،پیاسوں کے شہیدکئے جانے کا سامان جمع کیاہے۔مدینے کی زمین جس پرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھٹنوں چلے جس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بچپن کی بہاریں دیکھیں،جس پرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جوانی کی کرامتیں ظاہر ہوئیں، اپنے سرپر خاکِ حسرت ڈالتی اورپردیس جانے والے کے پیارے پیارے نازک پاؤں سے لپٹ لپٹ کر زبانِ حال سے عرض کر رہی ہے کہ'' اے فاطمہ رضی اللہ عنہاکی گودکے سنگھار!کلیجے کی ٹیک !زندگی کی بہار!کہاں کا ارادہ فرمادیا؟وہ کون سی سرزمین ہے جسے یہ عزت والے پاؤں جومیری آنکھوں کے تارے ہیں،شرف بخشنے کاقصد فرماتے ہیں ؟
اے تماشا گاہ عالم روئے تو

تو کجا بہر تماشا مے روی
    (یعنی آپ نظارہ کے لئے کہاں جا رہے ہیں جبکہ دنیا کی نگاہیں آپ کے روئے انور پر مرتکز ہیں۔)    

    جس قدریہ برکت والاقافلہ نگاہ سے دورہوتاجاتاہے اسی قدرپیچھے رہ جانے والی پہاڑیاں اورمسجدِنبوی علی صاحبہ الصلاۃوالسلام کے منارے سر اٹھااٹھا کردیکھنے کی خواہش زیادہ ظاہر کرتے ہیں،یہاں تک کہ جانے والے نگاہوں سے غائب ہوگئے اورمدینہ کی آبادی پر حسرت بھرا سناٹا چھا گیا ۔
اللھم صل علی سیدنا ومولانامحمدوعلی الہ واصحٰبہ اجمعین
Flag Counter