| آئینہ قیامت |
وارقربان ہوتے آبادی تک لائے ،اب کیا تھاخوشی کی گھڑی آئی ،منہ مانگی مرادپائی، گھرگھر سے نغماتِ شادی کی آوازیں بلند ہوئیں ،پردہ نشین لڑکیاں دف بجاتی، خوشی کے لہجوں میں مبارک بادکے گیت گاتی نکل آئیں :
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعٖ وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا مَا دَعَا لِلّٰہِ دَاعٖ
(یعنی وداع کے ٹیلوں سے ہم پر ایک چاند طلوع ہوا جب تک کوئی بلانے والا اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا رہے گا ہم پر اس (چاند)کاشکر واجب ہے۔)
بنی نجار کی لڑکیاں گلی کوچوں میں اس شعرسے اظہارِ مسرت کرتی ہوئی ظاہر ہوئیں :نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ یَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَار
( یعنی ہم قبیلہ بنی نجار کی بچیاں ہیں حضرت سیدنا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیسے اچھے پڑوسی ہیں۔) غرض مسرت کا جوش تھا، درودیوار سے خوشی ٹپکی پڑتی تھی ،ایک آج کا دن ہے کہ امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مدینہ چھوٹتا ہے،مدینہ ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب راحتیں، تمام آسایشیں ،ایک ایک کر کے رخصت ہوتی اور خیرباد کہتی ہیں۔ یہ سب درکنار، ناز اٹھانے والی ماں کاپڑوس،ماں جائے بھائی کاہمسایہ اور سب سے بڑھ کر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اپنا بیٹا قربان کردینے والے جدِکریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کاقرب ،کیا یہ ایسی چیزیں ہیں جن کی طرف سے آسانی کے ساتھ آنکھیں پھیر لی جائیں ؟آسانی سے